طہارت اور پاکیزگی کے لئے اللہ کی نعمتیں

امن کی پکار

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صفائی، طہارت اور پاکیزگی

کے لئے اللہ کی نعمتیں

بھائیو اور بہنو

السّلام علیکم

خاتم الانبیأ محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے

پاکیزگی نصف ایمان ہے

بھائیو اور بہنو! مندرجہ بالا حدیث پاک مندرجہ ذیل میں اللہ کے کلام کی تفسیر کا حصہ ہے۔ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ جب خاتم الانزبیأ محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو اول قبا میں قیام فرمایا۔ قبا میں ذیل کی آیت کا نزول ہوا۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے قبا والوں سے دریافت فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ وہ نجاست سے پاکی حاصل کرنے کے لئے کیا کرتے ہیں۔ قبا والوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اللہ کی توفیق سے اول اگلی اور پچھلی شرم گاہ سے نجاست کو مٹی کے ڈھیلوں سے صاف کرتے ہیں اور جب نجاست مٹی کے ڈھیلوں سے صاف ہو جاتی ہے تو ہم شرم گاہوں کو پانی سے دھوتے ہیں۔

بھائیو اور بہنو! اگر دقیق نظر سے دیکھا جائے تو نظر آئے گا کہ یہی دو جگہیں ہیں جہاں سے نجاست کا اخراج ہوتا ہے اور ان کو پاک و صاف رکھنا ضروری ہے۔ یہی نجاست اگر جسم کے دوسرے حصہ پر لگ جاتی ہے تو اسے دھونا لازمی ہے وگرنہ صفائی اور پاکی حاصل نہیں ہو گی۔ جسم پر جو مٹی کی گرد پڑ جاتی ہے یا پسینہ آجاتا ہے وہ ناپاک نہیں ہوتا لیکن ان سے جسم کے مسام بند ہو جاتے ہیں اور بندہ بے چینی محسوس کرتا ہے۔ اس بے چینی کو ختم کرنے کے لئے اسے نہانا پڑتا ہے۔ جب بندہ نہاتا ہے تو جسم کے مسام کھل جاتے ہیں اور وہ ذہنی طور پر تازہ دم ہو جاتا ہے اور اپنی قابلیتوں اور صلاحیتوں کو احسن طریقے سے اللہ کے فضل کی تلاش کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔

ترجمہ سورۃالتوبہ آیت نمبر 108

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فیہ رجال یحبون ان یتطھرو ط

واللہ یحب المطھرین۔

۔۔۔۔اس میں ایسے لوگ ہیں جو دوست رکھتے ہیں پاک رہنے کوط

اور اللہ دوست رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو۔

بھائیو اور بہنو! آئیے اب مندرجہ بالا آیت اور حدیث کی روشنی میں روزمرہ کی زندگی میں طہارت اور پاکی حاصل کرنے کے ذرائع کا تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور طہارت اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے اللہ کی لا تعداد نعمتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے۔

بھائیو اور بہنو! لمائے کرام قرآن اور حدیث کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ لا انتہا خوبیوں کا مالک ہے اور اللہ کی ذات یکتا ہے۔ جب کائنات کا وجود نہیں تھا تو اللہ کی ذات ہی یکتا تھی۔ چونکہ اللہ کی ذات یکتا تھی اس لئے کوئی ذات اللہ کو پہچاننے والی نہیں تھی کہ اللہ کی ذات کی تعریف کر سکے۔

بھائیو اور بہنو! مختصر یہ کہ اللہ نے اپنی پہچان کے لئے جن و انس کی تخلیق کی۔ حدیث قدسی کا مفہوم ہے

میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔

میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں۔

پس میں نے جن و انس کی تخلیق کی۔

بھائیو اور بہنو! مختصر یہ کہ اللہ کی ذات پاک ہے اور اللہ چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق بھی پاک و صاف رہے۔ اس لئے بچہ جب ماں کے رحم سے پیدا ہوتا ہے تو اس کا جسم ناپاک ہوتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے دستور طے کردیا ہے کہ جیسے ہی بچہ پیدا ہو اس کو پاک و صاف پانی سے نہلایا جائے اور اسے جسم، کانوں، ناک سے گندگی کو اچھی طرح دھویا جائے۔ منہ کے اندر لعاب چونکہ پاک ہوتا ہے اس لئے پاک و صاف انگلی سے بچے کے منہ کا خلال کیا جائے تاکہ پرانا لعاب نکال دیا جائے اور نیا لعاب جنم لیتا رہے۔ جب بچے کہ نہلا دیا جائے اور صاف ستھرے پہنا دئیے جائیں تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر پڑھی جائے۔ اس طرح سے بچہ جسمانی اور روحانی طور پر پاک و صاف ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جب بھی بچہ ناپاکی کی حالت میں ہو اس کی ناپاکی کو دھویا جائے اور اسے کپڑے اگر ناپاک ہو گئے ہیں تو کپڑے تبدیل کر دئیے جائیں۔

بھائیو اور بہنو! الحمد للہ! اللہ کے طے کردہ اصولوں کے مطابق ماں باپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو طہارت اور پاکیزگی کے آداب سکھلاتے رہیں تاکہ جب بچہ اس قابل ہو جائے کہ وہ بذات خود اپنا خیال رکھ سکتا ہے تو پھر ماں باپ کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔

بھائیو اور بہنو!! رفتہ رفتہ بچہ بچپن سے نکل کر جوانی کی حدود کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ اس دروان وہ نرسری، سکول، کالج، یونیورسٹی وغیرہ میں تعلیم حاصل کرتا ہے اور پھر وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اللہ کا فضل تلاش کرے یعنی کاروبار کرے، ملازمت کرے، وغیرہ وغیرہ۔

بھائیو اور بہنو! اللہ تعالٰی نے دنیا میں وقت کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ دن اور رات۔ دن اللہ کے فضل کی تلاش کے لئے اور رات سونے اور آرام کے لئے کیونکہ بندہ دن بھر اللہ کے فضل کی تلاش میں تھک جاتا ہے اور اس کی قابلیتیں اور صلاحیتیں معدوم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ رات کو سوکر بندہ آرام اس لئے کرتا ہے تاکہ صبح اٹھ کر وہ ضروریات سے فارغ ہو، منہ کو پاک و صاف کرے، نہائے، صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرے، ناشتہ کرے اور اللہ کے فضل کی تلاش کے لئے گھر سے باہر نکل جائے۔

سو کر اٹھنے کے بعد طہارت اور پاکیزگی حاصل کرنے کے اعمال

بھائیو اور بہنو! اللہ کا فضل تلاش کرنے میں تمام مخلوق شامل ہے۔ مثلاً

٭گھرکا سربراہ گھر سے باہر جا کر روزی کی تلاش کرتا ہے تاکہ اہل و عیال اور اللہ کی مخلوق کے حقوق العباد ادا کر سکے۔

٭گھر کی عورت کا اللہ کا فضل تلاش کرنا یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر اور اولاد کے لئے خانہ داری کا انتظام کرے اور بچوں کی تعلیم و تربیت کرے۔

٭جو اشیأ انسان کی خدمت کے لئے مقرر کی گئی ہیں، مثلاً: برتن، کپڑے، گھر، جانور، کار، وغیرہ وغیرہ کے حقوق العباد کرنا بھی اللہ کے فضل کی تلاش میں شامل ہیں۔

٭مخلوقات کا اللہ کا فضل تلاش کرنا یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کی خدمت کرے۔

٭وغیرہ۔

بھائیو اور بہنو! یہ قدرتی امر ہے کہ جب انسان سو جاتا ہے تو ایک طرح سے اس پر موت طاری ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کے جسم کا ہر عضو بے جان سا ہو جاتا ہے۔ حتٰی کے دماغ بھی مضمحل ہو جاتا ہے جس میں قابلیتں اور صلاحیتیں محفوظ ہوتی ہیں۔ صبح جب بندہ سو کر اٹھتا ہے تو اس کے جسم کا ہر عضو مضمحل ہوتا ہے، دماغ مضمحل ہوتا ہے اس لئے اب بندے کو ان کو بھی جگانا ہوتا ہے تاکہ وہ نئی زندگی شروع کر سکے۔ اس مقصد کے لئے وہ صبح اٹھ کر واش روم میں جاتا ہے اور مندرجہ ذیل اعمال کرتا ہے جن کی وجہ سے اس کے جسم سے کسلمندی آہستہ آہستہ دور ہونا شروع ہو جاتی ہے اور ہر دم بندہ تازہ دم ہوتا رہتا ہے۔ واش روم میں جا کر:

٭ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ سے دانتوں، مسوڑوں، زبان اور تالو کو مختلف زاویوں سے رگڑتا ہے تاکہ فاسد مادہ یعنی بکٹیریا منہ سے نکل جائے اور منہ کا اندرصاف و شفاف ہو جائے اور خود کو تازہ دم محسوس کرے۔

٭منہ صاف کرنے کے بعد وہ کموڈ پر یا دیسی لیٹرین پر بیٹھ کر رفع حاجت کرتا ہے۔ رفع حاجت سے فراغت حاصل کرنے کے بعد وہ مقعد کو ٹوائلٹ پیپرسے نجاست کو متعدد بار صاف کرتا ہے اور ٹوائلٹ پیپر کو کموڈ میں پھینک دیتا ہے۔ اگر پیپر استعمال نہیں کیا جاتا تو مقعد کو پانی سے دھوتاہے اور پانی کمٹوڈ میں ہی گرتا ہے۔ فراغت حاصل کرنے کے بعد وہ اٹھ جاتا ہے اور پانی کی ٹینکی سے ہینڈل کو پش کرتا ہے جس کی وجہ سے پانی نجاست کو سیورج سسٹم کے حوالے کر دیتا ہے۔

٭فراغت حاصل کرنے کے بعد بندے کو نہانا ہوتا ہے۔ نہانے کے لئے وہ کپڑے اتارتا ہے اور اگر شاور ہے تو شاور میں داخل ہو جاتا ہے یالٹی میں پانی بھر لیتا ہے۔ سردیوں میں نہانے کے لئے گرم پانی کا استعمال ہوتا ہے۔ اگر شاور کے نیچے نہانا ہوتا ہے تو ٹھنڈے اور گرم پانی کو اسطرح ملانا ہوتا ہے کہ پانی کا درجہ حرارت معتدل رہے تاکہ جسم اس کو گرداشت کر سکے۔ اسی طرح اگر بالٹی میں پانی بھر کر نہانا ہو تو بھی ٹھنڈے اور گرم پانی کو اس مناسبت سے ملانا چاہیے کہ پانی کا درجہ حرارت معتدل رہے۔

٭پانی سے نہانے کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ پورے جسم پر مختلف زاویوں سے پانی کو بہا لیتا ہے۔ اس کے بعد صابن دا ئیں یا بائیں ہاتھ میں لیکر مختلف زاویوں سے جسم کے ہر عضو پر رگڑتا ہے تاکہ جسم پر جمی ہوئی گرد اور پسینہ صاف ہو جائیں اور مسام کھل جائیں۔ جسم کے ہر عضو پر صابن رگڑنے کے بعد وہ جسم کے ہر عضو پر دائیں یا بائیں ہاتھ سے پانی بہاتا ہے اور دائیں یا بائیں ہاتھ سے رگڑتا ہے تاکہ صابن کی جھاگ اور گرد اترتی چلی جائے اور جسم کا ہر عضو صاف و شفاف ہو جائے۔

٭نہانے کا عمل مکمل ہونے کے بعد وہ تولئے سے اپنے جسم کے ہر حصہ کو رگڑتا ہے تاہ جسم کا تمام پانی تولئے میں جذب ہو جائے اور اس کے جسم کا ہر عضو خشک ہو جائے۔

٭جسم خشک کرنے کے بعد وہ شاور سے نکلتا ہے اور کپڑے زیب تن کرتا ہے اور بیڈ روم میں واپس آ جاتا ہے اور اللہ کے فضل کی تلاش کے لئے تیاری کرتا ہے۔

٭پاکی اور پاکیزگی حاصل کرنے کے بعد اس کی قابلیتیں اور صلاحیتیں 70 فیصد اجاگر ہو جاتی ہیں۔ ناشتہ کرنے کے بعد اس کی قابلیتیں اور صلاحیتیں 90 فیصد اجاگر ہو جاتی ہیں اور گھر سے باہر اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لئے نکلتا ہے تو اس کی قابیتیں اور صلاحیتیں 100 فیصد اجاگر ہوجاتی ہیں۔

لب لباب

بھائیو اور بہنو!مندرجہ بالا اعمال کے ادا کرنے سے یہ نظر آتا ہے کہ طہارت اور پاکیزگی حاصل کرنے کا مقصد قابلیتوں اور صلاحیتوں کو اجاگر رکھنا ہے۔ لیکن سارا دن اللہ کا فضل تلاش کرتے کرتے قابلیتیں اور صلاحیتیں معدوم ہو جاتا شروع ہو جاتی ہیں جس کے لئے اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے یہ دستور بنا دیا ہے کہ رات کو وہ سو جائے تاکہ اس کے جسم کے ہر عضو سے تھکاوٹ نکلتی رہے اور صبح کو مندرجہ بالا اعمال کر کے قابلیتیں اور صلا حیتیں اجاگر ہو جائیں۔

کیا طہا رت اور پاکیزگی حاصل کرتے ہوئے اللہ کی نعمتوں کا احساس ہوتا ہے؟

بھائیو اور بہنو!الحمد للہ! مضمون کے شروع میں ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات یکتا اکیلی تھی اور کسی ذات یا مخلوق کا وجود نہیں تھا۔ اللہ تعالٰی کو علیم ہونے کا ناطے سے علم تھا کہ انسان کی تخلیق کی جائے گی جس کا ذکر اللہ کے کلام قرآن پاک میں ہے:

ترجمہ سورۃالدھر آیت نمبر3 – 1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کبھی گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں کہ نہ تھا وہ کوئی چیز جو زبان پر آتی۔

ہم نے بنایا آدمی کو ایک دو رنگی بوند سے ق ہم پلٹتے رہے اس کو پھر کر دیا اس کو ہم نے سننے والا دیکھنے والا۔

ہم نے اس کوسجھائی راہ یا حق مانتا ہے اور یا ناشکری کرتا ہے۔

بھائیو اور بہنو!مختصر یہ کہ حضرت آدم علیہ السّلام کی تخلیق کی گئی اور ان کی پشت سے ان کی تمام ذریت کو نکال لیا گیا اور ان سے اللہ تعالٰی نے اپنے رب ہونے کا اقرار کروایا جس کا ذکر اللہ کے کلام قرآن پاک میں ہے

ترجمہ سورۃ الاعراف آیت نمبر172

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اور جب نکالا تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو اور اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر ج

کیا میں نہیں ہوں تمہارا رب ج

ہم اقرار کرتے ہیں ج

کبھی کہنے لگو قیامت کے دن ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔

بھائیو اور بہنو!علمائے کرام مندرجہ بالا آیت کی تفسیر فرماتے ہیں

٭بنی نوع انسان اور اللہ کے درمیان ایک معاہدہ ہے

-اللہ رب ہے

-روزی دینے والا    

-حفاظت کرنے والا

-نگہداشت کرنے ولا

معاونت کرنے والا

بنی نوع انسان مندرجہ بالا خدمات کے عوض اللہ کی بندگی کرتا رہے گا۔

بھائیو اور بہنو!سوال جنم لیتا ہے کہ قابلیتوں اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مندرجہ بالا ذمہ داریوں کا اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے خود کو سونپ لی ہیں، کس طرح سے ادا ہوتی ہیں؟

بھائیو اور بہنو!آئیے اللہ تعالٰی کی توفیق سے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ قابلیتوں اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے اللہ تعالٰی کس طرح سے اپنے اوپر سونپی کس طرح سے ادا فرماتے ہیں۔

قابلیتوں اور صلاحیتوں کو انسان کے دل و دماغ میں اجاگر کرنے کا کونسا ذریعہ ہے؟

بھائیو اور بہنو!ختصر یہ کہ علم دل میں جنم لیتا رہتا ہے جو دماغ میں ٹرانسفر ہوتا رہتا ہے۔ دماغ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا پلان بناتا ہے اور جسم کے اعضأ متحرک ہو کر اس پلان کو سرانجام دیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ انسان کے جسم کے اعضأ دماغ کے تابع ہوتے ہیں اور دماغ اللہ کے تابع ہوتا ہے۔

بھائیو اور بہنو! سوال جنم لیتا ہے کہ علم دل میں کیسے جنم لیتا رہتا ہے؟

بھائیو اور بہنو!حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنا کلام، قرآن پاک انسان کی تخلیق سے 50 ہزار پہلے قلم سے لکھوا لیا تھا۔

بھائیو اور بہنو!قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے حضرت آدم علیہ السّلام اور ان کی ذریت سے اپنے رب ہونے کا اقرار کروایا تھا تو ہر انسان کی روح میں اپنے کلام، قرآن پاک کا علم، ودیعت فرما دیا تھا۔ آپ کے ذہن میں ہوگا کہ جب حضرت آدم علیہ السّلام کی ذریت نے اللہ تعالٰی کے رب ہونے کا اقرار کر لیاتھا تو ہر روح رب رب کی تسبیح کرنے لگ گئی تھی۔

بھائیو اور بہنو!جب ماں کے رحم میں بچے کا جسم کا ڈھانچہ چار ماہ کے بعد مکمل ہو جاتا ہے تو فرشتہ اللہ کے حکم سے اس بچے کی روح کو اس کے دل میں پھونک دیتا ہے جس سے دل زندہ ہوجاتا ہے اور اس کے جسم میں خون کی گردش شروع ہو جاتی ہے جس سے بچے کا تمام جسم اللہ کے فضل و کرم سے زندہ ہو جاتا ہے۔

بھائیو اور بہنو! سوال جنم لیتا ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اللہ کا کلام حضرت آدم علیہ السّلام کی ہر ذریت کے دلوں میں اور تمام مخلوقات کی سرشتوں میں ودیعت کیا گیا تھا؟

بھائیو اور بہنو! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جب تمام روحوں نے اور تمام مخلوقات نے اللہ تعالٰی کے رب ہونے کا اقرار کر لیا تھا تو پھر اللہ تعالٰی نے انسان اور تمام مخلوقات سے سے سوال کیا کہ کیا وہ اپنی امانت یعنی قابلیتوں اور صلاحیتوں کو بجا لائیں گے؟

سورۃ الاحزاب آیت نمبر 72

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انا عر صنا الامانتہ علی السمٰوٰت والارض والجبال فابین ان یحملنھا و اشفقن منہا و حملھا الانسان ط انہ کان ظلوماً جھولا۔ لا

ہم نے دکھلائی امانت آسمانوں کو اور زمین کو اور پہاڑوں کو پھر کسی نے قبول نہ کیا اس کو اٹھائیں اور اس سے ڈر گئے اور اٹھا لیا اس کو انسان نے ط یہ ہے بڑا بے ترس نادان۔لا

سورۃ الاحزاب آیت نمبر 73

بسم اللہ الرحمن الرحیم

لیعذب اللہ المنٰفقین والمنٰفقٰت والمشرکین والمشرکٰت و یتوب اللہ علی المؤمنین والمؤمنٰت ط وکان اللہ غفورًا رحیما۔

تاکہ عذاب کرے اللہ منافق مردوں کو اور عورتوں کو اور شرک والے مردوں کو اور عورتوں کو اور معاف کرے اللہ ایماندار مردوں کو اور عورتوں کو ط اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان۔

بھائیو اور بہنو!لمائے کرام ان آیات کی تفسیر فرماتے ہیں کہ آسمانو ں اور زمین اور پہاڑوں نے اس وجہ سے امانت ادا کرنے سے معذرت اختیار کی کہ اگر وہ احسن طریقے سے امانت کا حق ادانہ کر سکے تو وہ اللہ کا عذاب پرداشت نہیں کر سکیں گے۔

بھائیو اور بہنو!سوال جنم لیتا ہے کہ آسمانوں، زمین، اور پہاڑوں نے کس بنأ پر امانت نہ ادا کرنے سے معذرت اختیار کی؟ وہ اس وجہ سے کہ انہوں نے قرآن کے سیاق و سباق کو سمجھا ہوا تھا کیونکہ قرآن ان کی سرشت میں ودیعت ہو چکا تھا جب انہوں نے بھی اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا تھا۔ آسمانوں، زمیناور پہاڑوں کی سرشت میں کس طرح سے اللہ کا کلام ودیعت ہوئے ہے اس ضمن میں آپ مضمون: قرآن ذرے ذرے میں کا مطالعہ فرمائیں:

ویب سائٹ

www.amankipukar.co.uk

Under Option:

قرآن

لنک: قرآن ذرے ذرے میں

بھائیو اور بہنو! گر آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کی سرشت میں قرآن ودیعت نہ ھوا ہوتا تو وہ کیسے جان سکتے تھے کہ امانت احسن طریقے سے ادا نہ کرنے پر ان کا اللہ کا عذاب ہوگا جسے وہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کی امانت کی ادائیگی سے معذرت کرنے سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مخلوقات کو اورانسان کی روحوں کو جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کروا دیا ہوگاکیونکہ اللہ تعالٰی کے دستور کے مطابق اللہ تعالٰی کا کوئی حکم حجت قائم کئے بغیر نہیں ہوتا۔ لیکن جب انسان نے جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کیا ہوگا تو جنت کی آسائشیں دیکھ کر اس کے منہ میں پانی بھر آیا ہو گا اور سوچے سمجھے بغیر اس نے امانت کا احسن طریقے سے ادا کرنے کا اقرار کر لیا تھا۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ انسان جلد بازی کی اور اسی وجہ سے اللہ تعالٰی نے انسان کو بے ترس اور نادان ذکر کیا ہے۔ بلا شبہ انسان نے دوزخ کا بھی مشاہدہ کیا ہوگا لیکن اس نے سوچا کہ جنت میں ہمیشہ کی زندگی میں دنیا میں تھوڑی سے زندگی کے لئے امانت کی ادائیگی کرنا کو نسا مشکل کام ہے۔ انسان کے جلد باز ہونے کا ذکر قرآن میں ہے:

ترجمہ سورۃ اسرائیل آیت نمبر 11

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اور مانگتا ہے آدمی برائی جیسے مانگتا ہے بھلائی ط اور ہے انسان جلد باز

لب لباب

بھائیو اور بہنو! الحمد للہ! علم کے حصول کا ذریعہ اللہ کا کلام ہے جس کی ہر انسان اورہر مخلوق کو ہر لحظہ زندگی کے آخری سانس تلک ضرورت ہے۔

امانت کی ادائیگی یعنی قابلیتوں اور صلاحیتوں کو جگانے کے لئے علم کی کیوں ضرورت ہے؟

بھائیو اور بہنو! ام طور پر جب بندہ سو کر اٹھتا ہے اور دانت صاف کرتا ہے، پانی منہ میں ڈال غرارے کرتا ہے، رفع حاجت کرتا ہے، نہاتا ہے، تولئے سے بدن کے اعضأ خشک کرتا ہے، وغیرہ تو وہ ان تمام اعمال کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ مثلاً

٭میں سو کر اٹھا،

٭میں واش روم گیا،

٭میں نے دانت برش کئے،

٭میں نے رفع حاجت کی،

٭میں نہایا

٭میں نے تولئے سے بدن خشک کیا،

٭میں نے کپڑے تبدیل کئے،

٭میں واش روم سے نکلا

٭میں نے ناشتہ کیا،

٭میں گھر سے باہر اللہ کے فضل کی تلاش کے لئے نکلا،

٭وغیرہ وغیرہ

بھائیو اور بہنو! سوال جنم لیتا ہے کہ بندہ تمام اعمال کے کرنے کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے جبکہ یہ تمام اعمال مخلوقات انجام دے رہی ہیں۔ مثلاً

انسان کے جسم کا تجزیہ

بھائیو اور بہنو! انسان اپنے جسم کے بارے میں کہتا ہے

٭میرا جسم

٭میری روح

٭میرا نفس

٭میرا سر

٭میرا دماغ

٭میرا دل

٭میری آنکھیں

٭میرا ناک

٭میرے کان

        ٭میری زبان

        ٭میرے ہونٹ

        ٭میرے دانت

        ٭میرا چہرا،

        ٭میرے گال

        ٭میرے بال

        ٭میرے ہاتھ

        ٭میرے بازو

        ٭میری کمر

        ٭میری ٹانگیں

        ٭میرے پاؤں

        ٭میری انگلیاں

        ٭میرے ناخن

        ٭میرا خون

        ٭میرا جگر

        ٭میرے پھیپھڑے

        ٭میرا پیٹ

        ٭وغیرہ وغیرہ

بھائیو اور بہنو! انسان سے جو بھی اعمال سرز د ہوتے ہیں تو وہ اس کے اعضأ سے سر زد ہوتے ہیں لیکن بندہ ان اعمال کواپنی طرف منسوب کر رہا ہے۔

بھائیو اور بہنو! سوال جنم لیتا ہے کہ “میں “ کون ہے؟

بھائیو اور بہنو! مختصر یہ کہ اس سوال کا جواب بڑے بڑے فلاسفر بھی نہیں دے سکے کہ انسان جب کوئی عمل اپنی طرف منسوب کرتا ہے تو لفظ“میں “ کیوں استعمال کرتا ہے؟

بھائیو اور بہنو! مختصر یہ کہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جب بندہ کوئی بھی کام کرنے تو اسے چاہیے کہ وہ کام کرنے کی نسبت اللہ تعالٰی کی ذات یکتا کی طرف کرے۔ مثلاً

        ٭الحمدللہ! میں نے اللہ کی توفیق سے نماز ادا کی

        ٭الحمد للہ! میں نے اللہ کے فضل و کرم سے اللہ کے راستے میں خرچ کیا

        ٭الحمد للہ! میں نے آپ کے لئے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی

بھائیو اور بہنو! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جب بندہ کوئی کام کرنے کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کرتا تو وہ شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ قرآن پاک میں ذکر ہے کہ درخت کا ایک پتہ بھی اللہ کے حکم کے بغیر نہیں ہل سکتا

ترجمہ سورۃالانعام آیت نمبر 59

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی کہ ان کو کوئی نہیں جانتا اس کے سوا ط اور وہ جانتا ہے جو کچھ جنگل اور دریا میں ہے اور نہیں جھڑتا کوئی پتہ مگر وہ جانتا ہے اس کو اور نہیں گرتا کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور نہ کوئی ہر ی چیز اور نہ سوکھی چیز مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے۔

بھائیو اور بہنو! تو بندہ اللہ کی مدد کے بغیر کس طرح کوئی کام کر سکتا ہے؟ اللہ تعالٰی نے اپنے کلام کے شروع میں ہی اللہ سے مدد مانگنے کی ہدایت کر دی ہے

سورۃ الفاتحہ آیت نمبر4

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایاک نعبد وایا ک نستعین۔ط

تیری ہی ہم بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ط

بھائیو اور بہنو! علمائے کرام اس آیت کی تفسیر فرماتے ہیں کہ پہلے بندہ اللہ سے کوئی بھی کام کرنے کے لئے دعا مانگتا ہے اور اس کام کے کرنے کے لئے اللہ کی مدد چاہتا ہے۔

طہارت اور پاکیزگی حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا احساس نہ ہونا

بھائیو اور بہنو! الحمد للہ! ہر بندہ سو کر اٹھنے کے بعد سے لے کر آخر تلک جو اعمال کرتا ہے وہ طہارت اور پاکیزگی حاصل کے لئے کرتا ہے۔ لیکن ان اعمال کو بجا لاتے ہوئے اسے اللہ کی نعمتوں کو احساس نہیں ہوتا۔ آئیے اللہ کی توفیق اور فضل و کرم سے ان نعمتوں کا تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو طہارت اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالٰی کی طرف سے بندے کو عطا کی گئی ہیں۔

بھائیو اور بہنو! اللہ تعالٰی کی عطا کردہ نعمتوں کا تجزیہ کرنے سے پیشتر دو عناصر کا سمجھنا بہن ضروری ہے۔

        ٭توازن

        ٭زاویہ

توازن

بھائیو اور بہنو! ذیل میں توازن کے معنی گوگل سے لئے گئے ہیں

An even distribution of weight enabling someone or something to remain upright and steady

**************

A situation in which different elements are equal or in the correct proportions.

**************

Put (something) in a steady position so that it does not fall.

**************

Offset or compare the value of (one thing) with another

**************

بھائیو اور بہنو! اللہ تعالٰی کے طے کردہ دستور کے مطابق ہر شئے اور ہرمخلوق کا ایک مرکز ثقل ہوتا ہے۔ اگر اس کو اس کے مرکز ثقل پر کھڑا کر دیا جائے تو اس کا توازن چاروں طرف برابر ہو جائے گا اور وہ گرے کا نہیں۔ مثلاً: ایک انڈا ہے جو بیضوی شکل میں ہوتا ہے۔ اگر اس کے مرکز ثقل پر کھڑا کر دیا جائے گا تو وہ گرے گا نہیں۔ جب تلک انڈے کا مرکز ثقل نہیں ملتا انڈا کھڑا نہیں ہو گا اور دائیں بائیں گرتا رہے گا۔ لیکن اگر انڈے کو آزاد چھوڑ دیا جاتے وہ وہ لڑھکتا جائے گا اور جہاں وہ رک جائے گا جو اس کا مرکز ثقل ہوگا لیکن وہ کھڑا نہیں ہو گا بلکہ لیٹنے کی صورت میں ہوگا۔

بھائیو اور بہنو! الحمد للہ! اللہ تعالٰی نے ہر جاندار مثلاً: مرد اور عورت، جانوروں وغیرہ کے کچھ ایسے اعضأ جن کی تعداد دو دو ہے۔کچھ جانور ایسے ہیں کہ جن کی بظا ہر چار ٹانگیں ہیں لیکن ان کی اگلی دو ٹانگیں ہاتھ ہوتی ہیں کیونکہ ان کی اگلی اور پچھلی ٹانگوں کی بناوٹ مختلف ہیں اور ان کے گوشت کی جزیات بھی مختلف قوت کی حامل ہوں گی۔

بھائیو اور بہنو! مرد و عورت اور وہ جاندار جن کے اعضأ کی تعداد دو دو ہے ان کے لئے ان میں توازن ہونا لازمی ہے اگر ان میں توازن نہیں رہے گا تو گر جانے کا امکان ہے۔مثلاً

٭بندہ اگر قدم بہ قدم چل رہا ہے اور نہ جانتے ہوئے ااس کا ایک پاؤں کسی گڑھے میں چلا جاتا ہے یا پتھر اسے ٹھوکر لگ جاتی ہے تو وہ گر جائے گا۔ کیونکہ اس کی ٹانگوں میں توازن پرقرار نہیں رہا۔

٭پرندوں کے دو پرہوتے ہیں اور دو پنجے ہوتے ہیں۔ پرندہ ایک پر سے نہیں اڑ سکتا۔ جب پرندہ دو پروں سے اڑتا ہے تو اسے دونوں پروں میں توازن ہونا ضروی ہے۔ دونوں پر ایک ساتھ اوپر اور نیچے آتے ہیں۔

زاویہ

بھائیو اور بہنو! ذیل میں زاویہ کی تعریف گوگل سے لی گئی ہے

An angle is formed when two straight lines or rays meet at a common endpoint.

*****************************

An angle is the figure formed by two rays, called the sides of the angle, sharing a common endpoint

*****************************

An angle less than 90 degrees. Right Angle – An angle that is exactly 90 degrees. Obtuse Angle – An angle more than 90 degrees and less than 180 degrees. Straight Angle – An angle that is exactly 180 degrees. Reflex Angle – An angle greater than 180 degrees and less than 360 degrees.

*****************************

The space between two lines or surfaces at the point at which they touch each other, measured in degrees:

*****************************

The direction that something is leaning or pointing in when it does not go straight up and down or straight across from side to side.

*****************************

A figure formed by two rays which start from a common point

*****************************

بھائیو اور بہنو! انسان جب کوئی بھی عمل کرنے کے لئے اپنے جسم کے اعضأ کو استعمال کرتا ہے تو اسے اپنے اعضأ کو ایک ایسے زاویے سے حرکت دینا لازمی ہے جس سے جسم کے اعضأ وہ عمل کر سکیں۔ اگر زاویے میں ذرا بھی کمی بیشی ہو جاتی ہے تو جسم کے اعضأ احسن طریقے سے عمل کو سرانجام نہیں دے سکیں گے۔ مثلاً

٭ایک بندہ کرسی پر بیٹھنا چاہتا ہے۔ اگر وہ اپنے دائیں ہاتھ کو کرسی کے دائیں بازو پر ایک خاص زاویے سے رکھتا ہے تو اسی زاویے سے اسے بایاں تھ کرسی کے بائیں بازو پر رکھنا پڑے گا اور پھر وہ کرسی پر آرام سے بیٹھ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنا دایاں ہاتھ کرسی کے بازو کے اگلے حصے پر رکھتا ہے لیکن بایاں بازو کرسی کے پچھلے حصہ پر رکھتا ہے تو وہ کرسی پر بیٹھ نہیں سکتا اور اگر بیٹھ گیا تو تکلیف ہوگی۔

٭پرندہ جب اڑتا ہوا آتا ہے اور درخت کی شاخ پر بیٹھتا ہے تو یک دم دونوں پنجوں کو درخت کی شاخ پر رکھتا ہے اور پنجوں کو سکیڑ کر شاخ کو پکڑ لیتا ہے تاکہ وہ گر نہ جائے۔

توازن اور زاویہ اللہ کی نعمتیں ہیں

بھائیو اور بہنو! الحمد للہ! توازن اور زاویہ اللہ کی نعمتوں میں سے ہیں جن کا استعمال ہر مخلوق, جمادات، نباتات، حیوانات اور انسان کرتا ہے لیکن اسے ان نعمتوں کا احساس نہیں ہوتا اور وہ ان کو

Taken for Granted

لے لیتا ہے۔

بھائیو اور بہنو! آئیے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر مخلوق کس طرح سے توازن اور زاویہ کی نعمتوں کی سزاوار ہے۔

جمادات

بھائیو اور بہنو! جمادات وہ مخلوق ہیں جن کو بے جان سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً: مٹی سے بنی ہوئی اینٹیں۔ اینٹیں عمارت بنانے کے کام آتی ہیں ے اگر تمام اینٹوں میں توازن اور زاویہ ایک جیسا نہیں ہوگا اور ان سے عمارت تعمیر کی جائے گی تو عمارت میں بظاہر بھونڈی لگے گی اور عمارت کی دیواروں میں مضبوطی بھی پیدا نہیں ہو گی۔

نباتات

بھائیو اور بہنو! نباتات وہ مخلوقات ہیں کہ جب بیج ہل چلا کر زمین میں بویا جاتا ہے تو وہ زمیں سے اگتی ہیں اور ان کی اٹھان عموداً ہوتی ہے۔کچھ نباتات زمیں کے اندر ہی اگ جاتی ہیں، مثلاً: آلو یا وہ نباتا ت جب اگ جاتی ہیں تو زمین پر ہی بیلوں کے ساتھ جڑی رہتی ہیں مثلاً: تربوز۔ تاہم! خواہ نباتان کی اٹھان عمودی ہو یا زمین کے اندر اگتی ہوں یا بیلوں کے ساتھ جڑی رہتی ہوں ان میں بھی توازن اور زاویہ قدرتی طور پر برقرار رہتا ہے۔

حیوانات

بھائیو اور بہنو! حیوانات گائے، بھینس، شیر، چیتا، پرندوں وغیرہ کا مجموعہ ہیں۔ ان کا بھی چلنا پھرنا، کھانا پینا، اڑنا وغیرہ خاص توازن اور زاوئیے کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر ان کے اعمال میں خاص توازن اور زوایہ نہیں ہوگا تو عمل سرزد نہیں ہو گا اور اگر ہوگا بھی تو اسمیں نقص پایا جائے گا۔

انسان

بھائیو اور بہنو! الحمد للہ! انسان اشرف المخلوقات ہے۔جمادات، نباتات اور حیوانات کو انسان کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ جمادات، نباتات اور حیوانات کا توازن اور زاویہ قدرتی امر کے تحت ہوتا رہتا ہے۔ انسان کو ارادہ اور اختیار دیا گیا ہے۔ اس لئے انسان کو چاہیے کہ وہ ہر دم ان نعمتوں کا احساس کرتا رہے جو کہ اللہ تعالٰی کا ذکر کرنے کے مترادف ہے اور آخرت کی زندگی میں ثواب کا اور دنیا کی زندگی میں دل میں سکینت اور دماغ میں سکون کے ساتھ ساتھ اللہ کے قرب کا سزا وار ہو جاتا ہے۔

سو کر اٹھنے کے بعد سے لے کر واش روم سے نکلنے تلک اللہ کی نعمتوں کا جائزہ

بھائیو اور بہنو! آئیے اب سو کر اٹھنے کے بعد سے لے کر واش روم سے نکلنے تلک جو اللہ کی نعمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں ان کو تجزیہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

رات کو سونا

بھائیو اور بہنو! رات کو سونے کے لئے اللہ تعالٰی کی مندرجہ ذیل نعمتیں ہیں

٭چارپائی کاہونا

٭جارپائی پر بستر کا ہونا۔ مثلاً: میٹرس، چادر، لحاف، تکیہ

٭بستر پر لیٹ جانا: کمر کے بل لیٹنا، سر تکیہ پر رکھنا، جسم کے اوپر لحاف لینا، نیند کا آنا، رات کو سوتے میں دائیں یا بائیں کروٹیں بدلنا وغیرہ، وغیرہ۔بستر پر بیٹھ جانا، بستر پر لیٹنا، تکیے پر سر رکھنا، رات کو سوتے میں دائیں یا بائیں کروٹیں بدلنا ایک خاص تواز اور زاویے کاہونے کا سزا وار ہے۔

مشاہدہ

بھائیو اور بہنو! کیا بندے نے مثلاً: چارپائی، بستر، لیٹنا، نیند، سوتے میں کروٹیں لینا، جاگنا، وغیرہ جو اللہ کی نعمتیبں ہیں، ان کا احساس کیا؟ اگر احساس نہیں ہوا تو اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا شکو کیسے ادا ہو سکتا ہے۔

صبح کو جاگنا

بھائیو اور بہنو! بندہ جب رات کو بستر پر سونے کے لئے لیٹتا ہے تو اس کا جسم تھکا ہوا ہوتا ہے۔ جب نیند کی نعمت آ جاتی ہے تو جسم کا ہر عضو سو جاتا ہے یعنی کوئی کام نہیں کرتا۔ چونکہ دماغ بھی سو جاتا ہے اس لئے قابلیتیں اور صلاحیتیں بھی سو جاتی ہیں۔ صبح کو جب بندہ جاگتا ہے تو اس کم و بیش، 70 فیصد تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔ جاگ جانے کے بعد اس پر مندرجہ ذیل الہ کی نعمتوں کو نزول ہوتا ہے

        ٭بستراٹھنے کے لئے وہ پشت پر بیٹھتا ہے،

        ٭ٹانگیں زمین پر رکھتا ہے،

        ٭پہلے پاؤں میں دایاں اور پھر بایاں سلیپر پہنتا ہے،

        ٭کمر کے سہارے بستر سے اٹھتا ہے،

        ٭قدم بہ قدم چل کر واش روم کی طرف جاتا ہے،

        ٭واش روم میں داخل ہوتا ہے،

مشاہدہ

بھائیو اور بہنو! کیا بندے سو کر جاگنے، بستر سے بیٹھنے، بستر سے اٹھنے، قدم بہ قدم چل کر واش روم جانے تلک اللہ کی جو لا تعداد نعمتوں کو نزول ہوتا رہتا ہے ان کا احساس کیا؟ اگر احساس نہیں ہوا تو اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا شکرکیسے ادا ہو سکتا ہے۔

واش روم میں اللہ کی نعمتوں کا نزول

بھائیو اور بہنو! سو کر اٹھنے کے بعد اس کی 30 فیصد تھکاوٹ باقی رہ جاتی ہے۔ اس میں سے 20 فیصد تھکاوٹ واش روم میں مندرجہ ذیل نعمتوں سے دور ہو جاتی ہے

٭واش بیسن کے گرم اور سرد پانی کے نل کھولتا ہے تاکہ پانی کا درجہ حرارت معتدل ہو جائے،

٭نل سے پانی کا نکلنا اللہ کی نعمت ہے۔ ہو سکتا ہے سسٹم میں کسی خرابی کا وجہ سے پانی کا اخراج بند ہو گیا ہو۔

٭اولاً منہ منہ میں پانی ڈال کر ٹوتھ برش سے دانت، زبان اور تالو کو رگڑتا ہے تاکہ بکٹییریا واش بیسن میں تھوک دیا جائے،

    ٭دوم ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب کودباتا ہے اور ٹوتھ پیسٹ نکلتی ہے تو اسے معتدل مقدار میں ٹوتھ برش پر ڈالتا ہے،

٭ٹوتھ برش منہ میں ڈال کر داتیں زبان اور تالو کو رگڑتا ہے تاکہ بکٹیریا کی بو ختم ہو جائے اور اس کا منہ صاف و شفاف ہو جائے،

مشاہدہ

بھائیو اور بہنو! واش روم میں گرم اور سرد پانی کا ہونا، ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ سے دانتوں اور منہ کو صاف کرنا، وغیرہ اللہ کی نعمتیں ہیں۔ کیا بندے نے ان کا احساس کیا؟ اگر احساس نہیں ہوا تو اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا شکرکیسے ادا ہو سکتا ہے۔

بڑا استنجا کرتے ہوئے اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا نزول

بھائیو اور بہنو! منہ کے صاف اور شفاف ہونے کے بعد بندہ رفع حاجت کے لئے ٹوائلٹ میں داخل ہوتا ہے اور مندرجہ ذیل نعمتوں کا نزول ہوتا ہے

٭کموڈ یا دیسی کموڈ پر بیٹھنے سے پیشتر وہ پاجامے یا شلوار کو گھٹنوں تک اتارتا ہے اور پھرشلوار اور قمیض کو اس توازن اور زاویے سے سمیٹا ہے کہ کپڑے نجاست اور پیشاب کی چھینٹوں سے بچ سکیں،

٭بڑی آنت سے نجاست کو نکالنے کے لئے وہ پش کرتا ہے جس سے معقد کا دہانہ کھل جاتا ہے۔ پش کرنا اور مقعد کا دہانہ کھل جانا اللہ کی نعمتوں میں سے ہے،

٭جب نجاست مقعد کا دہانہ کھلنے سے نکل جاتی ہے تو وہ مقعد کو سکیڑتا ہے یعنی بند کرتا ہے۔ مقعد کا سکیڑنا اللہ تعالٰی کی نعمتوں میں سے ہے۔

٭جب نجاست خارج ہو جاتی ہے تو وہ دائیں یا بائیں ہاتھ سے لوٹے کو اٹھاتا ہے اور دائیں یا بائیں طرف سے لہٹے کو ااس توازن اور زاویے سے مقعد تک لاتا ہے کہ لوٹے کی ٹوٹی مقعد کے اویر ہو،

٭جب لوٹے کی ٹوٹی مقعد کے اوپر آ جاتی ہے تو وہ لوٹے کو اس توازن اور زاویے سے انڈیلتا ہے کہ پانی مقعد پر گرتا رہے اور وہ دائیں یا بائیں ہاتھ سے مقعد کو دھوتا رہے۔

٭مغرب میں لوگ مقعد سے نجاست کو صاف کرنے کے لئے کاغذ کا استعمال کرتے ہیں۔ اس صورت میں ان کو کئی مرتبہ کاغذ کا استعمال کرنا ہوتا ہے تاکہ نجاست مکمل طور پر صاف ہو جائے اور نجاست کا ایک ذرا سے دھبہ بھی مقعد پر اور پشت پرنہ رہے۔

مشاہدہ

بھائیو اور بہنو! کموڈ یا دیسی کموڈ کا ہونا، خاص توازن اور زوائیے سے شلوار یا پاجامے کو گھٹنوں تلک اتارنا، نجاست کو پش کر کے خارج کرنا، لوٹے کی ٹوٹی کو عین مقعد پر لانا، مقعد کو پانی سے دھونا، وغیرہ اللہ تعالٰی کی نعمتوں میں سے ہیں۔ کیا بندے نے اللہ کی ان نعمتوں کا احساس کیا؟ اگر احساس نہیں ہوا تو اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا شکرکیسے ادا ہو سکتا ہے۔

چھوٹا استنجا کرتے ہوئے اللہ تعالٰی کی رحمتوں کا نزول

بھائیو اور بہنو! صحت و تندرستی کو برقوار رکھنے کے لئے بندہ پانی پیتا ہے جو مثانے میں ٹہرتا ہے اور جب مثانہ بھر جاتا ہے تو اس کا اخراج آلہئ تناسل کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ مثانے سے گندے پانی کا اخراج کرتے ہوئے اللہ تعالٰی کی مندرجہ ذیل نعمتوں کو نزول ہوتا رہتا ہے

٭چھوٹا استنجا کرنے لئے وہ ٹوائلٹ روم میں داخل ہوتا ہے اور کموڈ یا دیسی کموڈ پو بیٹھتا ہے۔ بیٹھنے سے پیشتر وہ پاجامے یا شلوار کو گھٹنوں تلک اتارتا ہے۔

٭ٹوائلٹ پربیٹھنے کے بعد اس کا مثانہ کھل جاتا ہے اور گندے پانی کا اخراج ہوتا ہے،

٭جب گندے پانی کا اخراج ہو جاتا ہے تو کچھ گندہ پانی ابنی آلہئ تناسل میں باقی رہ جاتا ہے جس کو بندہ جھٹکے دیے کر نکالتا ہے اور پھر دائیں یا بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور انگلیوں سے آّلہئ تناسل کو نچوڑتا ہے تاکہ آخری قطرہ بھی نکل جائے۔

٭انگو ٹھے کا ہونا ایک بڑی نعمت ہے۔ اگر انگوٹھا نہ ہو تو آلہئ تناسل کو نچوڑا نہیں جا سکتا۔ انگوٹھے کی اہمیت کو اس طرح جانا جا سکتا ہے کہ ایک شاعر نے ایک ایسا شعر کہا جس کا مفہوم ہے کہ انگوٹھے کی نعمت دیکھ کر اللہ تعالٰی کی ذات یکتا پر یقین مزید قوت پکڑ گیا۔

٭جب تمام گندہ پانی نکل جاتا ہے تو آلہئ تناسل کو پانی سے دھویا جاتا ہے۔

٭جب چھوٹا استنجا مکمل ہو جاتا ہے تو بندہ ایک خاص توازن اور زاویہ سے کموڈ یا دیسی ٹائلٹ سے کھڑا ہونا ہوتا ہے کہ گر نہ جائے۔

٭جیسے جیسے گندہ پانی عضو سے نکلتا رہتا ہے وہ کموڈ کے پانی میں شامل ہوتا رہتا ہے اور جو پانی عضو کو دھونے میں استعمال کیا جاتا ہے وہ بھی کموڈ کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے۔ جب ٹینک کو فلش کیا جاتا ہے تو تمام پانی سیورج کے حوالے ہو جاتا ہے۔

مشاہدہ

بھائیو اور بہنو! مثانے کا کھل جانا، گندے پانی کا اخراج ہونا،گندے پانی کو جھٹکے سے نکالنا، انگوٹھے کا ہونا، آلہئ تناسل کو پانی سے دھونا، وغیرہ اللہ تعالٰی کی نعمتیںہیں۔ ٹینک کے ہینڈل کو دبانے سے پانی کا سیورج کے حوالے ہونا بھی ایک نعمت ہے۔ کیا بندے نے اللہ تعالٰی کی ان نعمتوں کا احساس کیا؟ اگر احساس نہیں کیا تو اللہ تعالٰی کی شکر کیسے ادا ہو سکتا ہے۔

غسل کے عمل میں اللہ کی نعمتوں کا نزول

بھائیو اور بہنو! بندے کی مزید 10 فیصد تھکاوٹ دور کرنے میں غسل کا عمل ہے۔ اب جبکہ اس نے منہ بھی صاف کر لیا، رفع حاجت بھی کرلی تو جسم اور دماغ کی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے غسل کرنے کا عمل کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا نزول ہوتا ہے

٭بندہ باتھ روم میں داخل ہوتا ہے،

٭اول قمیض وہ اس زاریے سے اتارتا ہے کہ قمیض کا کوئی حصہ جسم کے کسی عضو کے ساتھ پھنس نہ جائے،

٭دوم وہ بنیان کو بھی ایسے زاویے سے اتارتا ہے کہ آرام سے اتر جائے،

٭سوم وہ پاجامے یا شلوار کو ایسے توازن اور زاویے سے اتارتا ہے کو شلوار کا کوئی حصہ کسی عضو میں پھنس نہ جائے اور وہ گر نہ پڑے،

٭اگر وہ شاور کے نیچے نہانا چاہتا ہے تو وہ شاور میں داخل ہوگا اور گرم اور سرد پانی کی ٹوٹیوں کو اس توازن اور زاویے سے کھولے گا کہ پانی کا درجہ حرارت معتدل ہو۔

٭وہ دائیں یا بائیں ہاتھ سے پانی کو کو اپنے تمام اعضأ پر ایک خاص توازن اور زاویے سے بہائے گا کہ ہر عضو اچھی طرح تر ہو جائے اور جسم کے تمام مسام کھل جائیں۔ جسم کے اعضأ پر پانی بہاتے ہوئے وہ دائیں یا بائیں ہاتھ سے ہر عضو کو ملتا بھی رہے گا۔

٭پورے بدن پر پانی بہانے کے بعد وہ دائیں یا بائیں ہاتھ میں صابن لے کر صابن کو جسم کے ہر عضو پر ملتا رہے گا تاکہ جسم کے ہر عضو سے گرد وغیرہصاف ہوتی رہے اور جسم کے مسام مزید کھلتے رہیں۔

٭بدن پر صابن ملنے کے بعد وہ جسم کے ہر عضو پر پانی بہائے گا اور دائیں یا بائیں ہاتھ سے ہر عضو کو ملتا بھی رہے گا تاکہ صابن کی چکنائی اچھی طرح دھل جائے۔

٭غسل مکمل ہونے کے بعد وہ گرم اور سرد پانی کی ٹوٹیاں بند کرے گا۔

٭غسل مکمل ہونے کے بعد وہ تولئے سے اپنے بدن کے ہر عضو کو پونچھے گا کہ اس کے بدن کا پانی تولئے میں جذب ہو جائے۔

٭اگر بندہ دیسی طریقے سے غسل کرنا چاہتا ہے یعنی بالٹی میں پانی بھر کر اور ایک ڈبے سے بالٹی میں سے پانی لے کر نہانا چاہتا ہے تو اس کے لئے سے ٹب میں ایک سٹٹول پر بیٹھنا ہوگا اور پھر ڈبے میں بالٹی سے پانی لے کر اپنے جسم پر بہانا ہوگا اور وہی اعمال کرنے ہوں گے جو شاور میں نہانے کے لئے کئے تھے۔

٭ٹب سے باہر نکل کر وہ کپڑے پہنتا ہے اور وہ بیڈ روم میں آ جاتا ہے۔

مشاہدہ

بھائیو اور بہنو! باتھ روم میں قدم بہ قدم داخل ہونا، کپڑوں کو ایک خاص زاویے سے اتارنا، شاور میں داخل ہونا، گرم اور سرد پانی کے درجہ حرارت کا معتدل ہونا، صابن کا ہونا، صابن کا بدن پر ملنا، جسم کے ہر عضو پر پانی بہانا، پانی کا لگاتار بہتے ہوئے سیورج کے نظام میں جاتے رہنا وغیرہ اللہ کی تعمتیں کیں۔ کیا بندے نے اللہ کی ان نعمتوں کا احساس کیا؟ اگر اللہ کی نعمتوں کا احساس نہیں کیا تو اللہ کا شکرکیسے ادا ہو سکتا ہے۔

بیڈ روم میں صاف ستھرے کپڑے پہنتے ہوئے اللہ کی نعمتوں کا نزول

بھائیو اور بہنو! قابلیتوں اور صلاحیتوں کی مزید5 فیصد تھکاوٹ کو جگانے کے لئے بندے پو مندرجہ ذیل اللہ تعالٰی کی نعمتوں کو زوال ہوتا ہے:

٭بیڈ روم میں داخل ہو کر وہ الماری سے صاف ستھرے کپڑے: شلوار، قمیض، بنیان، نکالتا ہے اور دراز سے جرابیں نکالتا ہے اور جوتوں کے ریک ے جوتے لیتا ہے۔

٭اول وہ میلی قمیض ایک خاص توازن اور زاویے سے اتارتا ہے اور پھر صاف ستھری بنیان پہنتا ہے اور پھر صاف ستھری قمیض ایک خاص توازن اور زاویے سے پہنتا ہے۔

٭دوم وہ میلا پاجامہ یا شلوار ایک خاص توازن اورزاویے سے اتارتا ہے اور پھر صاف ستھر شلوار ایک خاص توازن اور زاویے سے پہنتا ہے۔

٭سوم وہ ایک خاص توازن اور زاویے سے بستر یا کرسی پر بیٹھ جاتا ہے اور جرابیں ایک خاص توازن اور زاویے سے پہنتا ہے۔

٭چہارم وہ پالش کئے ہوئے جوتے پہلے دائیں پاؤں میں ایک خاص توازن اور زاویے سے پہنتا ہے اور پھر بائیں پاؤں میں ایک خاص توازن اور زاریے سے پہنتا ہے۔

٭تیار ہونے کے بعد وہ کھانے کے کمرے میں آ جاتا ہے جہاں گھر کی عورت نے ناشتہ تیار کر کے رکھا ہوتا ہے۔

مشاہدہ

بھائیو اور بہنو! صاف ستھرے کپڑوں کا ہونا، کپڑوں کو اکی خاص زاویے سے پہننا، بستر یا کرسی پر ایک خاص توازن اور زاویے سے بیٹھ کر جرابیں اور جوتے پہننا وغیرہ اللہ کی نعمتیں ہیں۔ کیا بندے نے اللہ کی نعمتوں کو احساس کیا؟ اگر نہیں کیا تو اللہ کا شکر کیسے ادا کر سکتا ہے۔

کھانے کے کمرے میں اللہ کی نعمتوں کا نزول

بھائیو اور بہنو! کھانے کے کمرے میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالٰی کی مندرہ ذیل نعمتوں کو نزول ہوتا ہے

٭ناشتہ میں گھر کی عورت نے جوس، چائے، سیریل یا پراٹھا، تلے ہوئے انڈے وغیرہ بنا کر رکھا ہوگا۔ اللہ کی ہر نعمت کو اسے ایک خاص توارن اورزاویے سے کھانا اور پینا ہوگا تاکہ کوئی شئے بھی اس کے صاف ستھرے کپڑوں پر نہ گر جائے۔

٭ناشتہ شروع کرنے سے پیشتر وہ ایک خاص توازن اور زاویے سے کھانے کے کمرے میں داخل ہوگا اور ایک خاص توازن اور زاویے سے کرسی پربیٹھنا ہوگا تاکہ وہ چلتے ہوئے یا بیٹھتے ہوئے گر نہ جائے۔

٭ناشتہ کرنے کے بعد وہ ایک خاص توازن اور زاویے سے کرسی سے اٹھتا ہے اور اللہ کے فضل کی تلاش کے لئے گھر سے نکل جاتا ہے۔

٭گھر سے اللہ کے فضل کی تلاش میں نکل کر اس کی قابلیتں اور صلاحیتیں مکمل طور پر جاگنا شروع ہو جاتی ہیں کیونکہ اب اسے ان کو اللہ کے فضل کی تلاش کے لئے استعمال کرنا ہوتا ہے۔

مشاہدہ

بھائیو اور بہنو! ناشتہ میں طرح طرح کے پکوان کا ہونا، ہاتھ یا چمچے میں پکوان لے کر ایک خاص زاہیے سے منہ کے اندر ڈالنا، چبانا، نگلنا وغیرہ اللہ کی نعمتیں ہیں۔ کیا بندے نے اللہ کی نعمتوں کا احساس کیا؟ اگر نہیں کیا تو اللہ تعالٰی کی نعموں کا شکر کیسے ادا ہو سکتا ہے۔

توازن اور زاویہ

بھائیو اور بہنو! پاکی اور طہارت حاصل کرتے ہوئے ہر عمل میں توازن اور زاویہ کا خیال رکھنا لازمی ہے۔ اگر کسی بھی عمل میں توازن یا زاویہ برقرار نہیں رہے گا تو گرنے کا، پھسلنے کا امکان ہے۔ مثلاً

٭اگر بستر پر لیٹتے وقت یا اٹھتے وقت صحیح تواز ن نہیں ہوگا تو کمر میں بل پڑ سکتا ہے جو کو تکلیف کا باعث ہوگا اور ہو سکتا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کے مہرے اثرانداز ہوں۔

٭قدم بہ قدم چلتے ہوئے اگر جسم کے ہر عضو میں صحیح توازن اور زاویہ نہیں ہوگا تو بندہ گر سکتا ہے جس کی وجہ سے سر پر چوٹ لگ سکتی ہے یا ران، پنڈلی یا بازو کی ہڈی ٹوٹ سکتی ہے۔

٭ٹوتھ برش اور وتھ پیسٹ سے دانت رگٹتے ہوئے اگو صحیح توازن اور زاویہ نہیں ہوگا تو ٹوتھ برش حلق میں جا سکتا ہے یا ناک میں گھس سکتا ہے۔

٭رفع حاجت کرتے ہوئے اگر صحیح توازن اور زاویہ سے کموڈ یا دیسی ٹوائلٹ پر نہیں بیٹھا جائے گا تو مقعد کا دہانہ کھل نہیں سکتا جس سے نجاست خارج نہیں ہوگی۔

٭مقعد کو پانی سے دھوتے ہوئے یا توائلٹ پیپر سے صاف کرتے ہوئے اگر صحیح توازن اور زاویہ نہیں ہوگا تو مقعد صاف نہیں ہوگا بلکہ نجاست پشت ر پھیل جائے گی۔

٭غسل کرتے ہوئے اگر شاور میں صحیح توازن اور زاویہ سے نہیں کھڑا ہوگا تو دائیں یا بائیں ہاتھ سے پانی جسم کے اعضأ پر نہیں بہہ سکتا۔ اسی طرح اگر ٹب میں سٹول پر صحیح توازن اور زاویہ سے نہیں بیٹھے گا تو بالٹی سے ڈبے کو پانی سے بھرنا مشکل ہوگا اور جسم کے اعضأ پر صحیح انداز میں نہیں بہایا جائے گا۔

٭صاف ستھرے کپڑے: شلوار، بنیان، قمیض پہنتے ہوئے اگر جسم کے اعضأ میں صحیح توازن اور زاویہ نہیں ہوگا تو کپڑے نہیں پہنے جا سکتے۔

٭ناشتہ کرتے ہوئے اگر صحیح توازن اور زاویہ سے ہاتھ یا چمچے سے کھا نا منہ میں نہیں ڈالا جائے گا تو وہ کھانا باہر گر سکتا ہے یا ٹھوڑی وغیرہ پر لگ سکتا ہے۔ مثلاً: بچے جب چمچے سے آئیس کریم کھاتے ہیں تو آئیس کریم ان کے چہرے پرپھیلتی رہتی ہے اور بعض اوقات چمچہ آنکھ تک پہنچ جاتاہے۔ کیوں؟ وہ اس لئے کہ توازن اور زاویہ صحیح نہیں ہوتا۔

٭وغیرہ۔

بھائیو اور بہنو! توازن اور زاویہ اللہ کی بہت بڑی نعمتوں میں سے ہیں۔ کیا انسان نے کبھی اس کا احساس کیا؟ اگر احساس ہی نہیں ہوا تو اللہ تعالٰی کا شکر کیسے ادا ہو سکتا ہے؟

آداب

بھائیو اور بہنو! طہارت اور پاکیزگی حاصل کرنے کے ہر عمل میں آداب کا ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ مثلاً

٭پہلے بستر پر کمر کے بل بیٹھ جائے، جوتے اتارے، ٹانگوں کو اٹھاتے ہوئے بستر پر رکھے اور تکیے پر سر رکھ کر لیٹ جائے۔

٭دانتوں کو ٹوتھ برش سے مناسب قوت کے ساتھ آہستہ آہستہ رگڑے۔

٭رفع حاجت کے لئے کموڈ کے آگے عین درمیان میں کھڑا ہو جائے اور شلوار گھٹنوں تک اتر کر کموڈ پر بیٹھ جائے۔

٭شاور میں جانے پہلے اول قمیض اتارے، پھر بنیان اتارے، پھر شلوار یا پاجامہ اتارے۔ اس طرح سے ستر آخر تلک برقرار رہتا ہے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کسی وجہ سے باتھ روم سے باہر جانا پڑے تو وہ شلوار یا پاجامہ پہنے ہوئے جاسکتا ہے۔

بیڈ روم میں جا کر جب صاف ستھرے کپڑے پہننا ہوتیے ہیں تو پہلے میلی شلوار یا پاجامہ اتارے اور صاف ستھری شلوار پہن لے۔ پھر قمیض اتارے اور بنیان پہن لے، پھرقمیض پہنے۔

٭وغیرہ۔

طہارت اور پاکیزگی کی اہمیت

بھائیو اور بہنو! یہ قدرتی امر ہے کہ ہر انسان کو بڑے استجے اور چھوٹے استنجے کی حاجت کسی وقت بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے ہر عمارت میں جہاں لوگ اللہ کا فضل تلاش کرتے ہیں وہاں پر ٹوائلٹ اور باتھ روم کا خاطر خواہ انتظام ہوتا ہے۔ مثلاًً: دفاتر، کئیر ہومز، دکانیں، فیکٹریز، وغیرہ وغیرہ۔ حتٰی کہ حکومت نے بازاروں میں بھی خاص طور پر ٹوائلٹ بنوائے ہوتے ہیں۔جہاں تلک حیوانات کا تعلق ہے، ان کو جب چھوٹے اور بڑے استنجے کی حاجت ہوتی ہے وہ جس جگہ بھی ہوں وہ خود کو فارغ کر لیتے ہیں۔ تاہم! جن کے پاس پالتو جانور ہوتے ہیں مثلاً: کتا، تو کتے کے مالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ جب وہ کتے کو لے کر باہر ٹہلنے کے لئے جائے تو اپنے ساتھ ایک تھیلی اور پلاسٹک کا دستانہ لے کر جائے تاکہ اگر کتا بول و براز کر دیتا ہے تو مالک دستاہ پہن کر بول و براز کو اٹھا کر تھیلی میں ڈال لے تاکہ راستہ صاف ہو جائے۔

٭منہ صاف کرنے کے بعد وہ کموڈ پر یا دیسی لیٹرین پر بیٹھ کر رفع حاجت کرتا ہے۔ رفع حاجت سے فراغت حاصل کرنے کے بعد وہ مقعد کو ٹوائلٹ پیپرسے نجاست کو متعدد بار صاف کرتا ہے اور ٹوائلٹ پیپر کو کموڈ میں پھینک دیتا ہے۔ اگر پیپر استعمال نہیں کیا جاتا تو مقعد کو پانی سے دھوتاہے اور پانی کمٹوڈ میں ہی گرتا ہے۔ فراغت حاصل کرنے کے بعد وہ اٹھ جاتا ہے اور پانی کی ٹینکی سے ہینڈل کو پش کرتا ہے جس کی وجہ سے پانی نجاست کو سیورج سسٹم کے حوالے کر دیتا ہے۔

٭فراغت حاصل کرنے کے بعد بندے کو نہانا ہوتا ہے۔ نہانے کے لئے وہ کپڑے اتارتا ہے اور اگر شاور ہے تو شاور میں داخل ہو جاتا ہے یالٹی میں پانی بھر لیتا ہے۔ سردیوں میں نہانے کے لئے گرم پانی کا استعمال ہوتا ہے۔ اگر شاور کے نیچے نہانا ہوتا ہے تو ٹھنڈے اور گرم پانی کو اسطرح ملانا ہوتا ہے کہ پانی کا درجہ حرارت معتدل رہے تاکہ جسم اس کو گرداشت کر سکے۔ اسی طرح اگر بالٹی میں پانی بھر کر نہانا ہو تو بھی ٹھنڈے اور گرم پانی کو اس مناسبت سے ملانا چاہیے کہ پانی کا درجہ حرارت معتدل رہے۔

٭پانی سے نہانے کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ پورے جسم پر مختلف زاویوں سے پانی کو بہا لیتا ہے۔ اس کے بعد صابن دا ئیں یا بائیں ہاتھ میں لیکر مختلف زاویوں سے جسم کے ہر عضو پر رگڑتا ہے تاکہ جسم پر جمی ہوئی گرد اور پسینہ صاف ہو جائیں اور مسام کھل جائیں۔ جسم کے ہر عضو پر صابن رگڑنے کے بعد وہ جسم کے ہر عضو پر دائیں یا بائیں ہاتھ سے پانی بہاتا ہے اور دائیں یا بائیں ہاتھ سے رگڑتا ہے تاکہ صابن کی جھاگ اور گرد اترتی چلی جائے اور جسم کا ہر عضو صاف و شفاف ہو جائے۔

٭نہانے کا عمل مکمل ہونے کے بعد وہ تولئے سے اپنے جسم کے ہر حصہ کو رگڑتا ہے تاہ جسم کا تمام پانی تولئے میں جذب ہو جائے اور اس کے جسم کا ہر عضو خشک ہو جائے۔

٭جسم خشک کرنے کے بعد وہ شاور سے نکلتا ہے اور کپڑے زیب تن کرتا ہے اور بیڈ روم میں واپس آ جاتا ہے اور اللہ کے فضل کی تلاش کے لئے تیاری کرتا ہے۔

٭پاکی اور پاکیزگی حاصل کرنے کے بعد اس کی قابلیتیں اور صلاحیتیں 70 فیصد اجاگر ہو جاتی ہیں۔ ناشتہ کرنے کے بعد اس کی قابلیتیں اور صلاحیتیں 90 فیصد اجاگر ہو جاتی ہیں اور گھر سے باہر اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لئے نکلتا ہے تو اس کی قابیتیں اور صلاحیتیں 100 فیصد اجاگر ہوجاتی ہیں۔

لب لباب

بھائیو اور بہنو! مندرجہ بالا اعمال کے ادا کرنے سے یہ نظر آتا ہے کہ طہارت اور پاکیزگی حاصل کرنے کا مقصد قابلیتوں اور صلاحیتوں کو اجاگر رکھنا ہے۔ لیکن سارا دن اللہ کا فضل تلاش کرتے کرتے قابلیتیں اور صلاحیتیں معدوم ہو جاتا شروع ہو جاتی ہیں جس کے لئے اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے یہ دستور بنا دیا ہے کہ رات کو وہ سو جائے تاکہ اس کے جسم کے ہر عضو سے تھکاوٹ نکلتی رہے اور صبح کو مندرجہ بالا اعمال کر کے قابلیتیں اور صلا حیتیں اجاگر ہو جائیں۔

کیا طہا رت اور پاکیزگی حاصل کرتے ہوئے اللہ کی نعمتوں کا احساس ہوتا ہے؟

بھائیو اور بہنو!الحمد للہ! مضمون کے شروع میں ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات یکتا اکیلی تھی اور کسی ذات یا مخلوق کا وجود نہیں تھا۔ اللہ تعالٰی کو علیم ہونے کا ناطے سے علم تھا کہ انسان کی تخلیق کی جائے گی جس کا ذکر اللہ کے کلام قرآن پاک میں ہے

ترجمہ سورۃالدھر آیت نمبر3 – 1

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کبھی گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں کہ نہ تھا وہ کوئی چیز جو زبان پر آتی۔

ہم نے بنایا آدمی کو ایک دو رنگی بوند سے ق ہم پلٹتے رہے اس کو پھر کر دیا اس کو ہم نے سننے والا دیکھنے والا۔

ہم نے اس کوسجھائی راہ یا حق مانتا ہے اور یا ناشکری کرتا ہے۔

طہارت اور پاکیزگی کی نشانیاں بطور اللہ کی نعمتیں

بھائیو اور بہنو!الحمد للہ! اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے انسان کے دماغ میں ایسی نشانیاں ودیعت فرما دی ہے جو بندے کو بڑے اور چھوٹے استنجہ کی اطلاع دے دیتی ہیں تاکہ وہ ان سے فراغت حاصل کرلے وگرنہ ان کی حالت بھی ایسی ہو جائے گی جس طرح حیوانات کی ہوتی ہے کہ جب ان کو چھوٹے بڑے استنجے کی حاجت ہوتی ہے تو وہ خود کو فارغ کر لیتے ہیں۔ یا جب بچے کو جب تلک طہارت اور پاکیزگی کا شعور نہیں ہوتا تو وہ قدرتی امر کے تحت فراغت حاصل کر لیتا ہے۔ ماں اس کے جسم کہ پانی سے دھو دیتی ہے اور نیا پیمپر باندھ دیتی ہے اور اگر ضرورت ہو تو کپڑے بھی بدل دیتی ہے۔

مشاہدات

بھائیو اور بہنو! رات کو سونے سے لے کر اللہ کے فضل کی تلاش تلک اللہ تعالٰی کی جن نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایک بہت ہی مختصر خاکہ ہے۔ اگر ہر عمل اور ہر شئے کا فرداً فرداً تجزیہ کیا جائے گا تو لا تعداد نعمتیں ظاہر ہوتی رہیں گی جن کو انسان کا چھوٹا سا دماغ سہار نہیں سکتا اور زیادہ سوچنے کی کوشش کرے گا تو پھٹ جائے گا یعنی پاگل ہو جائے گا۔

بھائیو اور بہنو!الحمد للہ! اللہ تعالٰی نے انسان کو علم سے نوازا ہے۔ وہ اس طرح کے اس کے دل کے لا شعور میں اپنا کلام یعنی قرآن پاک کا ظاہر اور باطن ودیعت کر دیا ہے۔ مختصر یہ کہ جب بچہ تعلیم حاصل کرتا ہے تو حقیقت میں اسے کلام پاک میں جو علم ہے اس کی یاد دہانی کروائی جاتی ہے اور علم کی کونپلیں پھوٹتی رہتی ہیں جن سے اس کے دل و دماغ میں قابلیتوں اور صلاحیتوں کی شکل اختیار کرتی رہتی ہیں جن کے ذریعے سے اسے اللہ کا فضل تلاش کرتے رہنا ہوتا ہے۔

بھائیو اور بہنو! علمائے کرام قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالٰی انسان کے ساتھ لا تعداد فرشتے منسلک کر رکھے ہیں جو انسان کے اعضأ سے اللہ کے حکم سے اعمال سرزد کرواتے رہتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالٰی نے اپنے فضل کرم سے اپنے رب ہونے کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو رہے ہیں:

ترجمہ سورۃ الاعراف آیت نمبر172

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اور جب نکالا تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو اور اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر ج

کیا میں نہیں ہوں تمہارا رب ج

ہم اقرار کرتے ہیں ج

کبھی کہنے لگو قیامت کے دن ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔

بھائیو اور بہنو!علمائے کرام مندرجہ بالا آیت کی تفسیر فرماتے ہیں

        بنی نوع انسان اور اللہ کے درمیان ایک معاہدہ ہے

            اللہ رب ہے

                روزی دینے والا

                حفاظت کرنے والا

                نگہداشت کرنے ولا

                معاونت کرنے والا

بنی نوع انسان مندرجہ بالا خدمات کے عوض اللہ کی بندگی کرتا رہے گا۔

بھائیو اور بہنو! اگر عقابی نظر سے دیکھا جائے تو انسان ہر لمحہ روزی کے حصول، حفاظت، نگہداشت اور معاونت کا متقاضی ہے جو اللہ تعالٰی کے فرشتے اللہ کے حکم سے اس کی ماں کے پیٹ سے لے کر دنیا سے رخصت ہونے تلک کرتے رہتے ہیں۔مثلاً: انسان چلتا پھرتا ہے تو فرشتے اس کو گرنے سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ اگر اس کی ٹانگوں کو توازن اور زاویہ بگڑ جاتا ہے تو وہ گرنے لگتا ہے۔جب تلک بندہ صحیح توازن کے ساتھ چلتا پھرتا ہے تو اس وقت فرشتے اس کی نگہداشت کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن جب وہ گرنے لگتا ہے تو اسے سنبھال لیتے ہیں یعنی معاونت کرتے ہیں اور اسے گرنے سے بچا لیتے ہیں۔

بھائیو اور بہنو! علمائے کرام قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالٰی انسان کو اپنی لاتعداد نعمتوں کے ضمن میں اپنے کلام میں فرماتے ہیں

فبای اٰلاء ربکما تکذبٰن

تم اپنے پرور دگار کی کو ن کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

بھائیو اور بہنو! علمائے کرام قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتلاتے ہیں کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا بجا لانا اللہ کی عبادت کرنا ہے یعنی بندگی کرنا ہے یعنی اللہ تعالٰی کی ہدایت کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرنا ہے۔

بھائیو اور بہنو! حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ

اگر تمام مخلوقات اللہ کی بارگاہ میں خلوص دل کے ساتھ سجدہ ریز ہو جائے تو ان کی عظمت و بڑائی مبں ذرہ برابر اضافہ نہیں ہوتا۔

اور

اگر تمام مخلوق اللہ تعالٰی کی تافرمان ہو جائے تو اللہ تعالٰی کی عظمت و بڑائی میں ذرہ برابر کمی نہیں آتی۔

بھائیو اور بہنو! سوال جنم لیتا ہے کہ اگر اللہ تعالٰی کی عبادت کرنے سے اللہ کی عظمت و بڑائی میں ذرہ برابر اضافہ نہیں ہوتاتو پھر اللہ تعالٰی کی عبادت کیوں کی جاتی ہے؟

بھائیو اور بہنو! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی عبادت یعنی بندگی اس لئے کی جاتی ہے کہ بندہ اللہ کے قریب ہوتا رہے اور اللہ کی رضا کا سزاوار ہو اور آخرت کی زندگی جو کہ ہمیشہ کے لئے ہوگی وہ اللہ تعالٰی کی نعمتوں سے مفید ہونے کا پروانہ ملے جو کسی آنکھ نے نہ دیکھی نہ کسی کان نے سنی اہو نہ کسی کے وہم و گمان میں آ سکتی ہیں۔

ترجمہ سورۃالتوبۃآیت نمبر 22 – 21

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خوشخبری دیتا ہے ان کو پروردگار ان کا اپنی طرف سے مہربانی کی اور رضامندی کی اور باغوں کی کہ جن میں ان کو آرام ہے ہمیشہ کا۔ لا رہاکر یں ان میں مدام (ہمیشہ) ط بیشک اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔

بھائیو اور بہنو! علمائے کرام مزید فرماتے ہبں جب بندہ نبک کام کرتا ہے تو اللہ تعالٰی کے قریب ہوتا ہے اور جب وہ برا کام کرتا ہے تو اللہ سے دور ہو جاتا ہے۔ اگر بندہ برے کام کرتا رہے اور خلوص دل سے توبہ و استغفار نہ کرے تو وہ اللہ کے قہر کا سزا وار ہوتا ہے یعنی اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے جو آگ کا گڑھا ہے۔

ترجمہ سورۃ ھود آیت نمبر 106

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سو جو لوگ بد بخت ہیں وہ تو آگ میں ہیں ان کو وہاں چیخنا ہے اور دھاڑنا۔ لا ہمیشہ رہیں اس میں جب تک رہے آسمان اور زمین مگر جوچاہے تیرا رب ط بیشک تیرا رب کر ڈالتا ہے جو چاہے۔

حرف آخر

بھائیو اور بہنو! مختصر یہ کہ انسان نے جلد بازی کی اور امانت کو ادا کرنے کی ذمہ داری اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا لی۔ یعنی وہ علم حاصل کرے گا اور اپنی قابلیتوں اور صلاحیتوں کو حقوق اللہ اور حقوق العباد بجا لانے میں صرف کر دے گا۔ جیسے ہی بندہ ماں کے رحم سے نکالا جاتا ہے، چونکہ اس کا جسم ناپاک ہوتا ہے، اسے نہلایا دھلایا جاتا ہے یعنی طہارت اور پاکیزگی کی تعلیم دی جاتی ہے، صاف ستھر کپڑے پہنائے جاتے ہیں۔ الحمد للہ! یہ طہارت اور پاکیزگی کا حصول اس کی رزمرہ زندگی کا عمل بن جاتا ہے۔

بھائیو اور بہنو! بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر پڑھی جاتی ہے جو کہ اس کی یاد دہانی کے لئے ہوتی ہے کہ نماز کو ادا کرنا ہے اور نماز کو قائم کرنا ہے۔ اسلامی ممالک میں مسجدوں سے اذان کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں جو بچے کو اذان اور تکبیر کی یاد دہانی کرواتی رہتی ہیں کہ اس کی زندگی کا کیا مقصد ہے۔

بھائیو اور بہنو! علمائے کرام قرآن اورحدیث کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ انسان نے جلد بازی کی اور امانت کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھا لی۔ اللہ تعالٰی نے علیم ہونے کے ناطے انسان کو رخصت دے دی کہ اگر وہ احسن طریقے سے امانت کی ادائیگی نہیں کر سکے گا تو خلوص دل سے توبہ و استغفار کرتا رہے۔ اللہ تعالٰی سحمان اور رحیم ہونے کے ناطے نہ صرف اس کے گناہوں کو بخش دیں گے بلکہ گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل فرما دیں گے جس کا ذکر لاللہ کے کلام میں ہے:

ترجمہ سورۃ الفرقان آیت نمبر 70

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الا من تاب و اٰمن و عمل عملاً صالحاً فاولٰئک یبدل اللہ سیاٰ تھم حسٰنٰت ط

و کان اللہ غفورًا رحیما۔

مگر جس نے توبہ کی اور یقین لایا اور کیا کچھ کام نیک سو ان کو بدل دے گا اللہ برائیوں کی جگہ بھلایاں اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان۔

ترجمہ سورۃ المائدہ آیت نمبر 39

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پھر جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے پیچھے اور اصلاح کی تو اللہ قبول کرتا ہے اس کی توبہ ط بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

لب لباب

اللہ کی نعمتوں کا احساس نہ کرنا امت مسلمہ کے زوال کی وجہ ہے

بھائیو اور بہنو! مندرجہ بالا گزار شات میں صرف رات کو سو کر صبح جاگنے کے بعد ناشتہ کرنے تلک جن اللہ کی نعمتوں کا ذکر، اللہ تعالٰی کی توفیق، سے کیا گیا ہے، یہ ایک بہت مختصر سا خاکہ ہے۔ اللہ تعالٰی کی ان نعمتوں کا نزول زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ میں ہوتا ہے۔ انسان کی اوسطاً زندگی اگر 70 سال ہے تو 70 سال کے دن اور رات میں ہر لحظہ اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ کیا انسان نے کبی ان نعمتوں کا احساس کیا؟ اگر اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا احساس ہی نہیں ہو سکا تو اللہ کا شکر خلوص دل سے کیسے ادا ہو سکتا ہے۔

بھائیو اور بہنو!الحمد للہ! منصوبہ امن کی پکار نے اللہ تعالٰی کی توفیق سے مضمون: اللہ کی نعمتیں ترتیب دیا ہے جو اسی ویب سائٹ

www.cfpibadaahs.co.uk

پر شائع کیا گیا ہے۔

بھائیو اور بہنو! آپ سے گزارش ہے کہ مضامین: اللہ کی نعمتوں کا مطالعہ فرمائیں۔ انشأ’اللہ! جیسے جیسے آپ مطالعہ فرماتے جائیں گے تو آپ کو ان مضامین میں کوئی نئی بات نظر نہیں آئے گی۔ بلکہ حقیقت میں یہ آپ کی یاد دہانی ہو گی جو کہ آپ کے لاشعور میں موجود تھی اور مطالعہ کرنے سے اب آپ کو نظر آ رہی ہے۔

بھائیو اور بہنو! مائے کرام فرماتے ہیں کہ جب تلک انسان کو اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا احساس نہیں

ہوتا وہ اللہ تعالٰی کی ذات یکتا کو پہچان نہیں سکتا۔ جب اللہ کی ذات یکتا کو پہچان نہیں سکتا تو اللہ تعالٰی کی ہدایت کے مطابق زندگی کیسے بسر کر سکتا ہے۔

بھائیو اور بہنو! آپ سے گزارش ہے کہ نفس اور شیطان پر غلبہ پائیں اور اللہ تعالٰی کی ذات یکتا کو اللہ تعالٰی کی نعمتوں سے پہچانیں اور اللہ تعالٰی کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کریں اور اللہ تعالٰی کی رضا کا حصول کریں کہ اللہ تعالٰلی بذات خود آپ کو جنت میں جانے حکم صادر فرمائیں جس کا قران پاک میں ذکر ہے

سورۃ الفجر آیت نمبر 30 – 27

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یاا یتھا النفس المطمءۃ۔ ق ارجعی الٰی ربک راضیتہ مر ضیتہ۔ ج

فاد خلی فی عبادی۔ لا واد خلی جنتی۔

اے وہ جس نے چین پکڑا۔ ق پھر چل اپنے رب کی طرف تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ ج

پھر شامل ہو میرے بندوں میں۔ لا اور داخل ہو میری بہشت میں۔

دعاؤں میں یاد رکھیں

والسّلام

نصیر عزیز

پرنسپل امن کی پکار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll Up