مضمون – پارٹ3

محترمہ بھابی صاحبہ!ذیل میں کتاب غنیتہ الطالبین کا اقتباس نقل کیا جا رہا ہے۔ بہتر ہے کہ آپ کسی عالمہ سے رجوع کریں اور جو اس کی تشریح کر دے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے لئے سمجھنا آسان نہ ہو۔

 

اقتباس کتاب غنیتہ الطالبین از شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ علیہ

 

غسل کا طریقہ اور احکام

 

     کامل اور

 

    بقدر ضرورت

 

کامل غسل

 

کامل یہ ہے کہ جنابت یا حدث اکبر دور کرنے کی نیت کے ساتھ کیا جائے۔ دل سے نیت کرنے کے بعد زبان سے بھی کہہ لے تو افضل ہے۔

 

پانی لینے کے وقت بسم اللہ کہے، تین بار دونوں ہاتھ دھوئے۔ بدن پر جو نجاست لگی ہو اس کو دھو ڈالے۔ پھر فوراً وضو کرے۔ پاؤں اس جگہ سے ہٹ کر دھوئے۔ تین لپ پانی سر پر ڈالے کہ بالوں کی جڑیں تر ہو جائیں۔ تین مرتبہ سارے بدن پر پانی بہائے۔ دونوں ہاتھوں سے بدن بھی ملتا جائے۔ رانوں کے گوشے اور بدن کی کھال کی شکنیں بھی دھوئے۔ یقینی طور پر ان مقامات پر پانی پہنچنا چاہیے۔

 

حضور اقدس صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے بالوں کو تر کرو، جلد کو خوب صاف کرو کیونکہ ہر بال کی جڑ میں نجاست ہوتی ہے۔

 

دائیں جانب سے غسل شروع کرے۔ غسل کی جگہ سے ہٹ کر پاؤں دھوئے۔ دوران وضو میں اگر کوئی فعل وضو شکن نہ ہوا ہو تو اس غسل سے نماز پڑھنی جائز ہے۔ مزید وضو کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم اس غسل کو حدث اصغر اور حدث اکبر دونوں کو دور کرنے کے لئے کافی قرار دیں گے۔

 

اگر دوران غسل میں کوئی وضو شکن فعل ہو گیا ہو تو غسل کے بعد پھر وضو کرے۔ اس تفصیل کا اصل ثبوت اس روایت سے ملتا ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بیان کی ہے کہ جب رسول صل اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کرنا چاہتے تو تین پار دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے لے کر الٹے ہاتھ پر پانی بہاتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے۔ تین بار منہ اور تین بار دونوں ہاتھ دھوتے۔پھر تین بار سر پر پانی ڈالتے اور دھوتے۔ جب غسل کر کے نکلتے تو دونوں پاؤں دھوتے۔

 

بقدر ضرورت غسل

 

بقدر ضرورت غسل کی کیفیت یہ ہے کہ پیشاب گاہ کو دھوئے، نیت کرے، بسم اللہ پڑھے۔ تمام بدن کو دھوئے۔ کلی بھی کرے اور ناک میں بھی پانی ڈال۔ کیونکہ دونوں واجب ہیں۔ وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے متعلق متضاد روایات آئی ہیں۔ایک روایت سے دونوں کا وجوب ثات ہوتا ہے اور ایک سے صرف غسل میں وجوب ثابت ہوتا ہے۔ صحیح ترین وہ روایت ہے جس سے دونوں کا وجوب وضو ثابت ہوتا ہے۔ (احناف کے نزدیک صرف غسل کامل میں واجب ہے)

 

اس غسل میں اگو وضو کی نیت نہ کرے تو اس سے (جنابت دور ہو جائے گی مگر دوبارہ) وضو کئے بغیر نماز نہیں ہوگی۔ اگر نیت کر لی ہے تو باقی ارکان وضو غسل میں آ جائیں گے۔ نیت وضو نہیں کی تو وضو نہیں ہوگا اور نماز درست نہیں ہوگی۔

 

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں۔ غسل کامل کی حالت اس کے مخالف ہے۔ اس میں وضو کامل ہو چکتا ہے۔

 

ضروت سے زائد پانی کا استعمال مستحب نہیں۔ درمیانی طور پر کرنا اچھا بھی ہے اور مستحب بھی۔ اگر غسل اور وضو کی ضروریات پوری ہو جائیں تو اسراف کے مقابلہ میں کم پانی استعمال کرنا بہتر ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع سے غسل کیا۔ مد کی مقدار ڈیڑھ ارطل ہوتی ہے اور صاع چار مد کا ہوتا ہے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ !اللہ کی توفیق سے کتاب: وضو نماز کا حصہ کیوں ہے؟کی تصنیف کیے اس میں سے غسل جنابت کا باب نقل کیا جا رہا ہے:

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

جنابت

 

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السّلام کی ذریّت کے جنم لینے کا نظام عورت و مرد کے ملنے میں رکھا ہے۔ اس کے علاوہ کنوار پن کی حالت میں جب جسم میں مادہ کی بہتات ہو جاتی ہے تو وہ سوتے وقت احتلام کے ذریعہ سے خارج ہو جاتی ہے، اور انسان جنبی ہونے کی صف میں داخل ہو جاتا ہے۔

 

قرآن پاک میں اللہ پاک کا ارشاد ہے، جس کا مفہوم ہے کہ اگر مومن جنبی ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ خود کو اچھی طرح سے پاک کرے۔

 

اطباء کا کہنا ہے کہ انزال کے وقت جو سفید رطوبت عضو تناسل سے نکلتی ہے، وہ انسان کے سارے جسم میں محیط ہوتی ہے۔ جس طرح ہینڈ پمپ کے ذریعہ سے زمین سے پانی نکالا جاتاہے، اسی طرح سفید رطوبت عضو تناسل سے نکلتی ہے تو اس کے اثرات جسم کے ہر حصّہ کے مساموں سے باہر نکل آتے ہیں جس سے جسم کا ہر حصّہ حتیٰ کے بال، دانت، زبان، مسوڑھے، حلق تمام ناپاک ہو جاتے ہیں۔

 

اسی لئے علمائے اکرام کا کہنا ہے کہ جب جنابت کا غسل کیا جائے تو دانتوں، مسوڑھوں وغیرہ کو اچھی طرح صاف کیا جائے۔ اگر دانتوں کے اندر کھانے کی کسی شئے کا ذراّت پھنس گئے ہوں تو ان کا نکال کر منہ کے اندرونی حصّہ کو اچھی طرح کلّی کرتے ہوئے دھونا چاہیے۔

 

علماء کا یہ بھی کہنا ہے کہ حلق میں پانی ڈال کر اسے باہر نکالا جائے، کیونکہ وہ حصّہ بھی ناپاک ہو چکا ہوتا ہے، تا کہ اگر کوئی شئے کھائی جائے تو وہ حلق سے گذرتے ہوئے ناپاک نہ ہو جائے اور پیٹ میں پہنچ جائے۔

 

نیز عورتیں جب حیض اور نفاس کے دنوں سے فارغ ہو جاتی ہیں تو ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اچھی طرح سے غسل کریں اور ہر طرح سے پاک و صاف ہو جائیں۔

 

لب لباب

 

محترمہ بھابی صاحبہ!اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور نعمتوں پر قربان جایا جاہے کہ عبادت کے ہر عمل میں جسمانی اور روحانی پاکیزگی کا خیال رکھا گیا ہے جو کہ ایک مومن کی جسمانی اور روحانی صحت کا حصول بھی ہے۔

 

ازواجی زندگی

 

محترمہ بھابی صاحبہ!مختصر یہ کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السّلام کی تخلیق کی اور حضرت حوا رضی اللہ تعالٰی عنہا کو حضرت آدم علیہ السّلام کی بائیں طرف کی پسلی جودل کے قریب ہوتی ہے، پیدا کیا، دونوں کا آپس میں نکاح کر دیا اور جنت میں ہمیشہ کے لئے عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے کے لئے بھیج دیا بشرطیکہ وہ ممنوع درخت کے قریب بھی نہ جائیں۔ شیطان نے انہیں ورغلایا اور ان کے ممنوع درخت کا پھل کھا نے سے ان پر سے تقوٰی کا لباس اتر گیا اور وہ برہنہ ہو گئے اور شرمگاہوں کو پتوں سے ڈھانپ لیا۔ اللہ کی نافرمانی کی پاداش میں ان کو زمین پر بھیج دیا کہ اگر زمین پر انہوں نے اوران کی اولاد نے اللہ کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کی تو موت کا جہاز ان کو جنت میں ہمیشہ کے لئے واپس لے آئے گا:

 

ترجمہ سورۃ البقرۃ آیت نمبر 35

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اور ہم نے کہا اے آدم رہا کر تو اور تیری عورت جنت میں

اور کھاؤ اس میں جو چاہو جہاں کہیں سے چاہو اور


پاس نہ جانا اس درخت کے پھر تم ہو جاؤ گے ظالم۔

 

ترجمہ سورۃ البقرۃ آیت نمبر 39 – 38

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

ہم نے حکم دیا نیچے جاؤ یہاں سے تم سب ج پھر اگر تم کو پہنچے میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو چلا میری ہدایت پر نہ خوف ہو گا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

 

اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلایا ہماری نشانیوں کو وہ ہیں دوزخ میں جانے والے ج وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے دستور طے کر دیا کو مرد اور عورت آپس میں مباشرت کریں گے، عورت کو حمل ٹہر جائے گا اور کم و بیش نو ماہ کے بعد لڑکے یا لڑکی کی پیدائش ہو گی:

 

ترجمہ سورۃالنسأ آیت نمبر 1

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اے لوگو! ڈرتے رہو اپنے رب سے جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے اور اسی سے پیدا کیا ایک جوڑا اور پھیلائے ان دونوں سے مرد اور عورتیں ج اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کے واسطہ سے سوال کرتے ہو آپس میں اور خبردار رہو قرابت والوں سے بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! مختصر یہ کہ جب مرد اور عورت کا آپس میں نکاح ہو جاتا ہے تو ان کی ازواجی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔

 

ازواجی زندگی میں کامیابی

 

محترمہ بھابی صاحبہ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جنت میں جانے کے لئے ضروری ہے کہ ازواجی زندگی کامیاب ہو۔ ازواجی زندگی میں کامیابی کا انحصار مندرجہ ذیل عناصر پر ہے:

 

٭شوہر اور بیوی کا آپس میں سمجھوتہ ہو اور عمر بھر ایک دوسرے کے وفادار رہیں،

 

٭بیوی گھر گرہستی اور اولاد کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے بجا لائے،

 

٭ بیوی گھر گرہستی کے کاموں اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے ضمن میں شوہر سے مشورہ کرتی رہے اور شوہر اللہ کے فضل کی تلاش کے ضمن میں اہلیہ سے مشورہ کرتا رہے۔

 

٭شوہر کا اللہ کا فضل تلاش کرنے بعد واپس گھر آنے کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ اہلیہ کو چاہیے کہ شوہر کے گھر آنے سے پیشتر صاف ستھر ے کپڑے پہنے اور شرعیت کے مطابق سنگھار کرے۔

 

٭عام طور پر دستور یہ ہوتا ہے کہ شوہر جب گھر میں آتا ہے تو اگر دروازہ پر تالا لگا ہے تو تالا کھول کر گھر میں داخل ہو جاتا ہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ شوہرگھنٹی بجائے یا دروازہ کھٹکھٹائے۔ اہلیہ آکر دروازہ کھولے اور شوہر کو سلام کرے، اس کے ہاتھ میں اگر بریف کیس ہے یا کوئی اور شئے ہے وہ لے لے۔

 

٭شوہر تھکا ہوا ہوتا ہے۔ اہلیہ جب تروتازہ، صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے، شرعیت کے مطابق سنگھار کئے ہوئے شوہر کا استقبال کرتی ہے توشوہر کی آدھی تھکن دور ہو جاتی ہے۔

 

٭کچھ دیر دونوں لاؤنج میں بیٹھ کر بات چیت کریں تاکہ دونوں کی دن بھر کی تھکاوٹ کو بھول جائیں۔ اہلیہ چونکہ شوہر کے استقبال کے لئے تروتازہ ہو چکی ہوتی ہے اس لئے شوہر بھی ترو تازہ ہونے کے لئے غسل کر لے اور کپڑے تبدیل کرلے۔ اس دوران اہلیہ چائے وغیرہ کا انتظام کر لے۔

 

٭جب شوہر تروتازہ ہو کر آجائے تو چائے پینے کے دوران دونوں ایک دوسرے کو دن بھر کی مختصر طور پر کارگزاری سنائیں تاکہ ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہیں۔

 

٭جب اللہ تعالٰی اپنے فضل وکرم سے اولاد سے نوازیں گے تو روزمرہ کی زندگی میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ دونوں شوہر اور بیوی کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

 

٭شوہر جب اللہ کا فضل تلاش کر کے گھر واپس آجائے تو اولاد کی دیکھ بھال میں اہلیہ کا ہاتھ بٹائے اور جب اولاد سکول جانے لگے تو شام کو اولاد سے ان کی تعلیم سے متعلق تبادلہ خیالات کرے۔

 

٭شوہر اور بیوی اب ایک دوسرے کو اولاد کے نام سے خطاب کریں۔ مثلاً:

 

        عمر کے ابو،     

 

        عمر کی امی    

 

٭جب دونوں اولاد کو خطاب کریں تو اپنے رشتہ کے ناطہ سے خطاب کریں۔ مثلاً :عمر بیٹے تو آپس میں پیارومحبت میں مضبوطی جنم لیتی رہے گی۔

 

٭علمائے کرام فرماتے ہیں کہ نام کے ساتھ رشتہ کو شامل کرنے سے لوگوں کو بھی ان کے رشتے معلوم ہو جاتے ہیں اور آپس میں پیار و محبت میں مضبوطی جنم لیتی رہتی ہے۔

 

٭مہمان نوازی احسن طریقے سے ہونی چاہیے۔

 

٭روزہ مرہ کی زندگی کو قرآن و حدیث کی روشنی میں ترتیب دینا چاہیے۔ مثلاً:

 

        حقوق اللہ: نماز، روزے، زکواۃ، حج اللہ تعالٰی کی ذات یکتا پر یقین کے ساتھ بروقت ادا کرنا،        

 

  • حقوق العباد کو احسن طریقے سے ادا کرتے رہنا۔ مثلاً:مصائب سے مامون رہنے کے لئے صدقہ و خیرات کرتے رہنا، مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہنا، تنگدستوں کی سرپرستی کرتے رہنا، وغیرہ۔

 

٭شرعیت نے جن تہواروں کو منانے کی رخصت دی ہے ان کو شرعیت کے دائرے میں رہ کر بجا لانا۔ مثلاً: عید الفطر، عید الضحٰے وغیرہ۔

 

٭علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اولاد جب والدین کو احسن طریقے سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کرتے ہوئے دیکھتی ہے تو اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے ان کی تعلیم و تربیت ہوتی رہتی ہے۔

 

٭ازواجی زندگی میں شوہر اور بیوی کے درمیان اختلافات کا ہو نا لازمی ہے۔ اختلافات کو اس انداز سے ختم کرنا کہ اولاد کی تعلیم و تربیت پر کوئی اثر نہ پڑے۔

 

٭وغیرہ۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے یہ دستور طے کر دیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السّلام کی ذریت نسل در نسل پیدا ہوتی رہے گی۔ مرد اور عورت کو ماں باپ کا منصب مل جائے گا اور اولاد کو بیٹا بیٹی کا منصب مل جائے گا۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! اللہ تعالٰی نے جب حضرت آدم علیہ السّلام کی پشت سے ان کی تمام ذریت کو نکال لیا تھا تو ہر ذریت میں روح کو سمو دیا تھا۔ اللہ تعالٰی نے ہر ذریت سے اقرار کروایا کہ اللہ تعالٰی ہر ذریت کے رب ہیں:

 

ترجمہ سورۃ الاعراف آیت نمبر172

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اور جب نکالا تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو اور اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر ج

 

کیا میں نہیں ہوں تمہارا رب ج

 

ہم اقرار کرتے ہیں ج

 

کبھی کہنے لگو قیامت کے دن ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! جب ہر روح نے اللہ تعالٰی کے رب ہونے کا اقرار کر لیا تو ہر روح مسلمان ہو گئی۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جب ہر روح مسلمان ہو گئی تو وہ اللہ کی رب، رب، رب کی تسبیح کرنے لگی۔ روحوں کو عالم ارواح میں آباد کر دیا۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! اللہ تعالٰی نے یہ دستور طے کر دیا کہ جب بچے کی پیدائش ہو جائے تو اس کو نہلا دھلا کر، پاک و صاف کپڑے پہنا کر اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کا میں تکبیر پڑھی جائے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ بچے کے دائیں کان میں اذان دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسے یاد دلایا جائے کہ اس نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا ہے اور بائیں کان میں تکبیر پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ اب اسے دنیا میں قرآن و حدیث کے مطابق زندگی بسر کرنی ہے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ہر روح کے لاشعور میں قرآن و حدیث کا علم ودیعت کیا ہوا ہوتا ہے۔ جب اسے یاد دلایا جاتا ہے تو علم لا شعور سے شعور میں منتقل ہو جاتا ہے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ

ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن پھر اس کے ماں باپ اس کو

یہودی، عیسائی اور مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ !اللہ تعالٰی نے اپنے کلام میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ صرف نیک اور پرہیز گار مسلمان ہی جنت میں جائیں گے۔ گنہگار مسلمانوں گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد جنت میں جانے کی اجازت ہو گی۔ مشرک، یہودی اور عیسائی وغیرہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے:

 

سورۃآل عمران آیت نمبر85

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

و من یتبع غیر الاسلام دیناً فلن یقبل منہ ج

و ھو فی الاٰخرۃ من الخٰسرین۔

 

اور جو کوئی چاہے سوا دین اسلام کے اور کوئی دین سو اس سے ہر گز قبول نہیں ہو گا ج

اور وہ آخرت میں خراب ہے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ بچہ بلوغت کے بعد ہی عبادات کو بجا لانے کا مکلف ہوتا ہے۔ اگر بلوغت سے پیشتر اس سے گناہ سرزد ہو جائیں وہ اس کے اعمال نامہ میں نہیں لکھے جاتے۔ اس لئے اگر غیر مسلم کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ بلوغت سے پیشتر فوت ہو جاتا ہے تو وہ اللہ کے فضل وکرم سے جنت میں جائے گا۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! سوال جنم لیتا ہے کہ

 

        اللہ تعالٰی کی ذات یکتا ہے،

        بنی نوع انسان حضرت آدم علیہ السّلام کی ذریت ہے،

        دین اسلام حضرت آدم علیہ السّلام اور ہر نبی کو دیا گیا تھا،

        دین اسلام کی تکمیل خاتم الانبیأ محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ وسلم پر ہوئی تھی،

 

محترمہ بھابی صاحبہ! تو عیسائی، یہودی، مجوسی، وغیرہ مذاہب نے کیسے جنم لیا؟

 

محترمہ بھابی صاحبہ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ نفس اور شیطان کے زیر اثر ہر نبی کے پیروکاروں اللہ تعالٰی کی کتابوں میں اپنی نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے تبدیلی اور تحریف کر دی اور ایک نئے مذہب کا نام دیا:

 

ترجمہ سورۃ البقرۃ ٓیت نمبر 79

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سو خرابی ہے ان کو جو لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھ سے پھر کہہ دیتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے تاکہ لیویں اس پر تھوڑا سا مول ط سو خرابی ہے ان کو اپنے ہاتھ کے لکھے سے اور خرابی ہے ان کو اپنی کمائی سے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! مختصر یہ کہ جب اللہ کے کلام یعنی دین اسلام کے ایک حکم میں بھی تبدیلی کر دی جائے تو بندوں کا رشتہ دین اسلام سے کٹ جاتا ہے اور بندہ دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے۔ اس لئے پھر نبی کے پیروکار تحریف شدہ تعلیمات کا پر چار کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ایک نئے مذہب کا نام دیتے ہیں۔ مثلاً :حضرت یعقوب علیہ السّلام کے پیروکاروں نے بنی اسرائیل کا لقب اختیار کیا کیونکہ حضرت یعقوب علیہ السّلام کا لقب اسرائیل تھا۔ اسی لئے حضرت موسٰی علیہ السّلام کے پیروکاروں نے اپنی ریاست کا نام اسرائیل رکھا ہے۔حضرت یعقوب علیہ السّلام کے ایک بیٹے کا نام یہودا تھا۔ تو انہوں نے مذہب کا نام یہودی رکھا دیا۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! حقیقت میں اسلامی، یہودی، اور عیسائی ذہنیتیں ہیں۔ اسلامی ذہنیت اللہ کے کلام کے مطابق ہوتی ہے، یہودی ذہنیت دین میں تحریفات کرنا ہوتا ہے، اور عیسائی ذہنیت بے حیائی اور عریانی کو فروغ دینا ہے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ایک بندہ جس مذہب (ذہنیت) کا پیرو کار ہو اس کے ماں باپ اسی ذہنیت کے مطابق اولاد کی تعلیم و تربیت کرتے ہیں اور اسی ذہنیت کے تعلیمی مراکز میں تعلیم دلواتے ہیں۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! حدیث پاک کا مفہوم ہے:

 

ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن پھر اس کے ماں باپ اس کو

یہودی، عیسائی اور مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کے دستور کے مطابق ہر بچہ مسلمان پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس کی روح نے روز الست میں:

 

٭اللہ کا رب ہونے کا اقرار کیا تھا،

 

٭اس کے لاشعور میں اللہ کا کلام ودیعت کر دیا گیا تھا۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ بچے کی بلوغت سے پہلے کا زمانہ بچوں کی تربیت کرنے کا ہوتا ہے۔ اس لئے جن بچوں کی تربیت جس مذہب (ذہنیت) کے مطابق ہو گی بلوغت کے بعد وہ اسی مذہب (ذہنیت) کا پیروکار ہوگا۔ یعنی::

 

٭مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والے بچے کی ذہنیت اسلامی ہوگی،

 

٭یہودی کے گھر میں پیدا ہونے والے بچے کی ذہنیت دین میں تحریف اور تبدیلی کرنے کی ہوگی،

 

٭عیسائی کے گھر میں پیدا ہونے والے بچے کی ذہنیت بے حیائی اور عریانی کو فروغ دینے والی ہوگی۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! علمائے کرام فرماتے ہیں کو مسلمان ہونے کی شرائط ایمان مفصل اور ایمان مجمل میں بتلائی گئی ہیں:

 

ایمان مفصل

 

اٰمنت باللہ و ملٰئکتہ و کتبہ و رسولہ والیوم الاٰخر والقدر خیرہ و شرہ من اللہ تعالٰی والبعث بعد الموت۔

 

میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر کہ وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور جی اٹھنے پر بعد مرنے کے۔

 

ایمان مجمل

 

اٰمنت باللہ کما ھوباسماۂ وصفاتہ وقبلت جمبع احکامہ اقرار باللسان و تصدیق بالقلب۔

 

میں ایمان لایا اللہ پر جیسے اس کی ذات اپنے ناموں اور صفتوں کے ساتھ ہے اور میں نے قبول کئے اس کے تمام احکام زبان سے اقرار ہے اور دل سے یقین ہے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ایمان مفصل اور ایمان مجمل مندرجہ ذیل آیات کی تفسیر ہیں:

 

ترجمہ:سورۃ البقرۃ آیت نمبر۵۸۲

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

مان لیا رسول نے جوکچھ اترا اس پر اس کے ربّ کی طرف سے اور مسلمانوں نے بھی ط سب نے مانا اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو قف کہتے ہیں کہ ہم جدا نہیں کرتے کسی کو اس کے پیغمبروں میں سے اور کہہ اٹھے کہ ہم نے سنا اور قبول کیا ق تیری بخشش چاہتے ہیں اے ربّ ہمارے اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

 

سورۃ النسأ آیت نمبر136

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اے ایمان والو ایمان(یقین) لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی ہے اپنے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی تھی پہلے اور جو کوئی یقین نہ رکھے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور کتابوں پر اور قیامت کے دن پر وہ بہک کر دور جا پڑا۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! مختصر یہ کہ مسلمان ہونے کی شرائط ہیں:

 

        اللہ تعالٰی کی ذات یکتا پر خلوص دل سے ایمان

 

        اللہ تعالٰی کے تمام رسولوں پر یعنی حضرت آدم علیہ السّلام سے لے کر خاتم الانبیأ محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ وسلم پر خلوص دل سے ایمان،

 

        اللہ تعالٰی کی کتابوں پر ایمان جن میں تبدیلی اور تعریف نہ کی گئی ہو،

 

        اللہ تعالٰی کے فرشتوں پر ایمان،

 

        قیامت کے دن پر ایمان،

 

        تقدیر پر ایمان۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! اگر بندہ مندرجہ بالا شرائط میں سے ایک شرط پر بھی ایمان نہیں لاتا وہ مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک بندہ کہتا ہے کہ میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیأ میں سے صرف ایک نبی پر ایمان نہیں لاتا جس کا نام قرآن میں نہیں ہے وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ!اس پہلو کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! گنتی کے پہلے دس ہندسوں کو لے لیں۔

 

1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10

 

محترمہ بھابی صاحبہ! ان ھندسوں میں سے اگر تین کے ھندسے کو حذف کر دیا جائے تو باقی ھندسوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی۔ اس لئے مسلمان ہونے کے لئے، کم و بیش، ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام پر ایمان لانا ہو ضروری ہے وگرنہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ!علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان عیسائی ذہنیت کی زندگی گزارتے ہوئے مسلمان رہ سکتا ہے یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا نہیں کرتا جس کی وجہ سے گنہگار ہوتا رہتا ہے جس کی سزا اسے دوزخ میں رہ کر ادا کرنی ہوگی اگر اس نے مرنے سے پیشتر اللہ کی بارگاہ میں تویہ و استغفار خلوص دل سے نہیں کی ہو گی۔ سزا بھگتنے کے بعد وہ اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے جنت میں جا سکتا ہے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ!علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حقیقت میں ماحول اور فضا بندوں کی ذہنیت بناتے ہیں۔ مثلاً:

 

٭اگر ایک بچہ مسلمان ماں باپ کے گھر پیدا ہوا ہے لیکن اس کی پرورش اور تعلیم و تربیت مغربی ماحول اور فضا میں ہوئی ہے تو اس کی ذہنیت مغربی ہوگی لیکن چونکہ وہ مسلمان ماں باپ کے گھر پیدا ہوا ہے اس لئے وہ خود کو مسلمان ہی سمجھے گا اور مسلمان ہی کہلائے گا۔

 

٭اگر ایک بچہ یہودی یا عیسائی ماں باپ کے گھر پیدا ہوا ہے لیکن اس کی پرورش اور تعلیم و تربیت اسلامی ماحول اور فضا میں ہوئی ہے تو اس کی شخصیت و کردار میں اسلامی اقدار کا پرتو ہوگا لیکن یہودی یا عیسائی ہی کہلائے گا۔ تاہم! بلوغت کے بعد اسے مسلمان ہونے کی تمام شرائط کو پورا کرنا ہوگا اور کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کا خلوص دل سے کم از کم دو گواہوں کے سامنے اقرار کرنا ہوگا تب وہ بندہ مسلمان ہو گا اور مسلمان کہلائے گا اور دائرہ اسلام میں دوبارہ داخل ہو جائے گا۔ یعنی جب اس کی روح نے ازل میں اللہ تعالٰی کے رب ہونے کا اقرار کر لیا تھا تو وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا تھا۔ لیکن یہودی یا عیسائی ماں باپ کے گھر پیدا ہونے سے اس پر یہودی یا عیسائی ہونے کا لیبل لگ چکا تھا اس لئے بلوغت کے بعد اسے دائرہ اسلام میں داخل ہونے لئے دوبارہ اللہ تعالٰی کے رب ہونے کا اقرار کرنا ہوگا۔ تاہم !علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی بندے کو کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھانے والا نہیں ہے اور دو گواہ بھی نہیں، اکیلا ہے تو وہ اللہ تعالٰی کو گواہ بنا کر خلوص دل سے اللہ کی ذات یکتا کا اقرار کر تا ہے اور گزشتہ گناہوں پر خلوص دل سے توبہ و استغفار کرتا ہے اور اسلامی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کا اقرار کرتا ہے تو اللہ تعالٰی کی نظر میں وہ دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو چکا ہے اور اگر بغیر کسی کو بتلائے کہ وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو چکا ہے یعنی کچھ دیر کے بعد وہ دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو آخرت میں اس معاملہ بطور مسلمان ہی ہو گا۔

 

لب لباب

 

محترمہ بھابی صاحبہ! مختصر یہ کہ چودہ سو سال پیشتر کم و بیش تمام دنیا میں گمراہی کا دور دورہ تھا اور تمام بنی نوع انسان دوزخ کی طرف رواں دواں تھا۔ اللہ تعالٰی نے اپنا خاص فضل و کرم کیا اور محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا اور بنی نوع انسان کو خبردار کر دیا کہ محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیأ ہیں اور دین اسلام مکمل ہو چکا ہے اس لئے یہ آخری موقعہ کے وہ اللہ کی طرف رجوع کر لیں کیونکہ صرف دین اسلام ہی دنیا اور آخرت میں کامیابی دلوا سکتا ہے اور کوئی بھی خود ساختہ مذہب اللہ کیی رضا حاصل نہیں کر سکتا۔ ذیل میں اللہ کے کلام کی متعلقہ آیات کو پیش کیا جاتا ہے:

 

خاتم الانبیا

 

ترجمہ سورۃ الاحزاب آیت نمبر 40

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ و خاتم النبین ط

و کان اللہ بکل شیء علیما۔

 

محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر ط

اور ہے اللہ سب چیزوں کا جاننے والا۔

 

دین اسلام کا مکمل ہونا

 

سورۃ المائدہ آیت نمبر 3

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

۔۔۔الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم

نعمتی و رضیت لکم الاسلام دین ط۔۔

 

آج میں پورا کر چکا تمہارے لئے دین تمہارا اور پورا کیا تم پر میں نے

احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔

 

صرف دین اسلام کا قبول ہونا

 

سورۃآل عمران آیت نمبر85

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

و من یتبع غیر الاسلام دیناً فلن یقبل منہ ج

و ھو فی الاٰخرۃ من الخٰسرین۔

 

اور جو کوئی چاہے سوا دین اسلام کے اور کوئی دین سو اس سے ہر گز قبول نہیں ہو گا ج

اور وہ آخرت میں خراب ہے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! الحمد للہ! محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے فضل و کرم اور توفیق سے اللہ کا پیغام بنی نوع انسان تلک پہنچایا اور صحابہ اکرام کی جماعت تیار کی جو، نسل در نسل، آپ صل اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد اللہ کا پیغام بنی نوع انسان تلک پہنچاتی رہے گی۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! الحمد للہ !صحابہ رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کی جماعت آپ صل اللہ علیہ وسلم کی حیات مبار ک میں ہی اللہ کا پیغام بنی نوع انسان تلک پہنچانا شروع کر دیا تھا۔ مثلاً:خلافت راشدہ کے ساڑھے بارہ سال کے مختصر عرصہ میں پچیس لاکھ مربع میل پر اللہ کا پیغام پہنچ چکا تھا۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! تاہم! امت مسلمہ بھی حضرت آدم علیہ السّلام کی ذریت ہے۔ مختصر یہ کہ امت مسلمہ بھی نفس اور شیطان کے زیر اثر اللہ تعالٰی کے سیدھے راستے سے ہٹتی چلی گئی اور دور حاضر میں یہ روز روشن کی طرح دیکھا جا سکتا کہ تمام اسلامی ممالک میں برائی کے محوروں کا دور دورہ ہے۔ حتٰی کہ پاکستان جو اللہ کے فضل و کرم سے کلمہ گو لا الہ الاللہ محمد الرسول اللہ کی بنیاد پردنیا کے نقشہ پر ابھرا تھا، میں تمام برائی کے محوروں کا دور دورہ ہے اور متحدہ امارات کی اسلامی ریاستوں میں شراب خانوں، جوأ خانوں وغیرہ کے ساتھ سوئر کے گوشت کی بھی دکانیں ہیں۔ نیز سعودی عرب جو دین اسلام کا مرکز ہے، میں بھی برائی کے محوروں کو فروغ دینے کی تیاری ہو رہی ہے مثلاً:سعودی عرب میں ایک شہر کی تعمیر کی جا رہی ہے جہاں پر ہر قسم کی عیاشی کا سامان ہوگا اور اس شہر میں اسلامی قوانین کا اطلاق نہیں ہوگا تاکہ غیر مسلم اس شہر کے مطابق عیش و عشرت کی زندگی گزار سکیں۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ!الحمد للہ !منصوبہ امن کی پکار کی بنیاد قرآن اور حدیث پر رکھی گئی ہے۔مضامین اس انداز میں لکھ کر شائع کئے گئے ہیں کہ روزمرہ کی زندگی اسلامی اقدار کے مطابق کس طرح گزاری جا سکتی ہے۔ مثلاً: وضو کا عمل کس طرح سے بندے کو ہر وقت با وضو رہنے میں مدد کر سکتا ہے۔ وضو کرنے سے بندہ سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک پاک و صاف ہو جاتا ہے۔ پاک و صاف رہنے کی اہمیت کو قرآن میں کئی جگہ واضح کیا گیا ہے:

 

سورۃالتوبہ آیت نمبر 108

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

فیہ رجال یحبون ان یتطھرو ط

واللہ یحب المطھرین۔

 

اس میں ایسے لوگ ہیں جو دوست رکھتے ہیں پاک رہنے کوط

اور اللہ دوست رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ! مختصر یہ کہ بندہ دن ورات میں پانچ نمازرں کو ادا کرنے کیلئے وضو کرتا ہے۔ ایک وقت نماز ادا کرنے کے بعد وضو دوسری نماز تلک قائم رہ سکتا ہے۔ اس طرح سے عشأ کی ادا کرنے کے بعد اگر سو جائے گا تو باوضو سوئے گا۔ اس طرح سے بندہ ہر وقت باوضو رہ سکتا ہے۔

 

محترمہ بھابی صاحبہ!روزمرہ کی زندگی میں ہر بندہ اپنے قول و فعل سے اور تعلیم و تربیت سے دین اسلام کی اشاعت بھی کر سکتا ہے۔ لیکن یہ ایک علحیدہ مضمون ہے اور انشأ اللہ اللہ تعالٰی کی توفیق سے جلد ہی لکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll Up