اللہ کی نعمتیں – پیش لفظ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

امن کی پکار

 

پیش لفظ

 

اللہ کی نعمتیں

 

بھائیو اور بہنو

 

السّلام علیکم

 

بھائیو اور بہنو! اللہ تعالٰی کی ذات یکتا علیم ہونے کے ناطے سے جانتی تھی کہ انسان کی تخلیق ہو گی جس کا ذکر اللہ تعالٰی اپنے کلام قرآن پاک میں فرماتے ہیں

 

ترجمہ سورۃالدھر آیت نمبر3 – 1

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

کبھی گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں کہ نہ تھا وہ کوئی چیز جو زبان پر آتی۔ ہم نے بنایا آدمی کو ایک دو رنگی بوند سے ق ہم پلٹتے رہے اس کو پھر کر دیا اس کو ہم نے سننے والا دیکھنے والا۔ ہم نے اس کوسجھائی راہ یا حق مانتا ہے اور یا ناشکری کرتا ہے۔

 

 

بھائیو اور بہنو !علمائے کرام اس آیت کی تفسیر فرماتے ہیں کہ انسان کی تخلیق اس لئے کی گئی کہ وہ اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا شکر کرتا ہے یانہیں۔

 

بھائیو اور بہنو!مختصر یہ کہ اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے انسان کو دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے کائنات تخلیق کی۔ پہلے آسمان سے لے کر زمین کی تہوں تلک جتنی بھی مخلوق ہے ان سب سے انسان مستفید ہوتا ہے تاکہ اللہ تعالٰی کا شکر اداکر سکے۔

 

بھائیو اور بہنو!علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کائنات کو اپنی پہچان کے لئے تخلیق کیا ہے۔ حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں

 

میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا،

میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں،

پس میں جن و انس کی تخلیق کی۔

 

بھائیو اور بہنو ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی بہترین تخلیق انسان کی تخلیق ہے۔ انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے اور کائنات میں تمام مخلوق اس کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے

    

سورۃ التین

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

والتین والزیتون۔ لا وطور سینین۔ لا وھذالبلد الامین۔

لا لقد خلقاالانسان فی احسن تقویم۔

 

قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔ لا اور طور سینین کی لا اور اس شہر امن والے کی۔

ہم نے بنایا آدمی کو خوب اندازے پر۔ز

 

بھائیو اور بہنو ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ انسان سب سے پہلے اپنا جائزہ لے کہ روزمرہ کی زندگی گزارنے کے لئے اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے کن کن نعمتوں سے نوازا ہے۔ جب انسان اللہ کی نعمتوں کا احساس کرے گا تو اللہ تعالٰی کو پہچانے گا اور پھر اللہ کا شکر ادا کرتا رہے گا۔

 

بھائیو اور بہنو ! سوال جنم لیتا ہے کہ اللہ کی نعمتوں پر مضمون لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

 

بھائیو اور بہنو ! مختصر یہ کہ مقدر میں لکھا تھا کہ کچھ عرصہ کے لئے ہاف ایکڑ کئیر ہوم کا مہمان رہوں۔ کس وجہ سے؟ یہ ایک علحیدہ مضمون ہے۔ انشأ اللہ ! اس مضمون کے آخر میں لکھ دیا جائے گا۔

 

بھائیو اور بہنو ! ہاف ایکڑکئیر ہوم میں وہ لوگ آکر رہتے ہیں جو عمر کے آخری دور میں ہوتے ہیں اور گھر میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ ان کو ہر طرح کی سہولت مہیا کی جاتی ہے اور ان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

 

بھائیو اور بہنو ! ہاف ایکڑ کئیر ہوم میں ایک مسلمان کئیر ورکر (مسلمان بھائی)بھی ہیں۔ رفتہ رفتہ ان سے تبادلہئ خیالات ہوتا رہا اور واقفیت بڑھتے بڑھتے دوستی کا رنگ اختیار کر گئی۔

 

بھائیو اور بہنو ! الحمد للہ ! اللہ تعالٰی کی توفیق سے اسلامی لباس اختیار کیا ہوا تھا اور اللہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی بھی توفیق دیتے تھے۔ مسلمان بھائی کو نماز ادا کرتے ہو نہیں دیکھا تھا۔ اس سے یہ دریافت نہیں کیا کہ وہ مسلمانوں کی اس اکثریت میں سے ہیں جو نماز ادا نہیں کرتی۔ تاہم ! اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے ان کے لئے دعا کرنے کی توفیق ملتی رہتی تھی۔ الحمد للہ انہوں نے اس احقر کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ مختصر یہ کہ انہوں نے ظہر کی نماز ادا کرنی شروع کر دی۔ کچھ روز کے بعد انہوں نے ظہر کی نماز ادا کرنی چھوڑ دی۔ ان سے دریافت نہیں کیا گیا کہ اب وہ نماز کیوں ادا نہیں کرتے۔ چونکہ وہ ظہر کی نماز ادا نہیں کرتے تھے تو ذہن میں آیا کہ وہ بھی مسلمانوں کی اکثریت میں سے ہیں جو نماز ادا ہی نہیں کرتے۔ تاہم !وہ جمعہ کے روز کی چھٹی کرتے تھے اور جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے۔

 

بھائیو اور بہنو ! رمضان المبارک کا مہینہ آنے والا تھا۔ ایک روز میں نے ان سے ذکر کیا کہ انشأاللہ آپ کو ماہ رمضان کے لئے تحفہ دیا جائے گا۔انہوں نے تحفے سے متعلق دریافت کیا تو میں نے بتلایا کہ جائے نماز۔ انہوں نے کہا اس سے زیادہ اچھا تحفہ کونسا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ نہیں بتلایا کہ وہ گھر میں نماز ادا کرتے ہیں۔

 

        بھائیو اور بہنو ! الحمد للہ ! رمضان المبارک میں انہوں نے ظہر، عصر کی نمازیں ادا کرنی شروع کر دیں۔ ان کو ہوم کئیر سے شام آٹھ بجے چھٹی ہوتی تھی اور گھر پہنچنے سے پہلے ہی روزے کے افطار کا وقت ہو جاتا تھا۔ ہوم کئیر کی طرف سے افطاری ملتی تھی اس میں سے کچھ وہ لے جاتے تھے تاکہ بر وقت روزہ افطار کر سکیں۔

                                        

بھائیو اور بہنو ! ایک مرتبہ ان سےتبادلہ خیالات ہو رہا تھا تو انہوں نے ذکر کیا کہ وہ گھر میں نمازیں کرتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ وہ ہوم کئیر میں نماز کیوں ادا نہیں کرتے؟ انہوں نے عذر پیش کیا کہ لوگوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے کپڑے ناپاک بھی ہو جاتے ہیں۔ الحمد للہ ! یہ جان کر، اللہ کے فضل و کرم سے، اطمینان ہوا کہ وہ پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں۔ ان سے ان کے اہل و عیال سے متعلق دریافت نہیں کیا گیا کہ آیا وہ بھی نماز ادا کرتے ہیں۔

 

بھائیو اور بہنو! کئیر ہوم میں کھانے میں مسلمان کے لئے چوائس کم ہوتی ہے یعنی حلال گوشت اور سالن وغیرہ نہیں ہوتا۔ ایک مرحوم دوست کے فرزند ہفتہ میں ایک مرتبہ ہوم میڈ فوڈ دے جایا کرتے اور وقتاً فوقتاً مسلمان کار گزار بھی ہوم میڈ فوڈ لے آتے تھے۔ مرحوم دوست کے فرزند کی اہلیہ کا آپریشن ہوا تھا تو انہوں نے معذرت کرلی۔مسلمان کار گزار وقتاً فوقتاً ہوم میڈ فوڈ لا رہے ہیں۔

 

بھائیو اور بہنو ! قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ دعا کے ساتھ دوا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

 

بھائیو اور بہنو ! ماہ رمضان میں پاکستان سے کپڑے، چپلی، بنیانیں، رومال وغیرہ ڈاک کے ذریعہ سے منگوائے تھے۔ ان کو چپلی دکھلائی، انہوں نے پسند کی ان سے کہا گیا کہ ان کے لئے چپلی بنوا دی جائے گی اور جب وہ لاہور جائیں گے تو انشأاللہ ! بزنس منیجر ان کی مہماں نوازی کرے گا۔

 

بھائیو اور بہنو ! مسلمان بھائی میں یہ بات نوٹس کی گئی کہ وہ بنیان نہیں پہنتے۔ مختصر یہ کہ ان کو ایک سفید رنگ کا سوٹ، ایک بنیان، دو رومال ہدیتہً پیش کئے گئے۔

 

بھائیو اور بہنو ! ہوم میڈ فوڈ تو ان کی اہلیہ تیار کرتی ہیں، اس لئے ہدیہ کی وہ بھی سزاوار تھیں۔ مختصر یہ کہ بزنس منیجر کو ہدایت کی کہ وہ میری طرف سے مسلمان بھائی کے لئے ایک جوڑاچپلی، ایک جوڑا سلیپر، ایک درجن بنیانیں، ٹوپی اور ان کی اہلیہ کے لئے عبایا ہدیتہً پیش کر دے۔

 

بھائیو اور بہنو ! مسلمان بھائی اہلیہ کی عبایا اپنی کزن کو اس وجہ سے دے آئے کہ ان کی اہلیہ عبایا نہیں پہنتی۔ جب انہوں نے اپنی اہلیہ سے ذکر کیا کہ ان کے لئے عبایا بھیجی گئی تھی لیکن وہ عبایا اپنی کزن کو دے دی کیونکہ آپ تو عبایا پہنتی نہیں۔ انہوں نے بتلایا کہ ان کی اہلیہ نے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ لے آتے۔ نماز ادا کرتے ہوئے پہن لیتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ الحمد للہ ! ان کی اہلیہ نماز کی پابند ہیں۔

 

بھائیو اور بہنو ! اب اللہ تعالٰی کی توفیق سے مسلمان بھائی کی اہلیہ کی اصلاح کے لئے دعا کے ساتھ دوا کا بھی اہتمام کرنے کا خیال آیا۔ مختصر یہ کہ بزنس منیجر سے مندرجہ ذیل اشیأ بطور ہدیہ دینے کے لئے بذریعہ ڈاک منگوائی ہیں

                                                            ٭ عبایا

٭ سکارف

٭ نقاب

٭ ایک جوڑا گرگابی

٭ ایک جوڑا سلیپر

     ٭ چھ جوڑے جرابیں

٭ تین جوڑے دستانے

٭ دو ٹوپیاں۔ ان کے صاحبزادوں کے لئے

 

بھائیو اور بہنو ! مندرجہ بالا دوا کا اس لئے اہتمام کیا کہ عورت کے لئے حجاب گھر کے اندر اور نقاب گھر سے باہر عورت کی بنیادی ضرورت ہے۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے جب حضرت آدم علیہ السّلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالٰی عنہا کو زمین پر بھیجا تو مندرجہ ذیل آیات کا نزول فرمایا

 

ترجمہ سورۃ الاعراف آیت نمبر26

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اے اولاد آدم کی ہم نے اتاری تم پر پوشاک جو ڈھانکے تمہاری شرمگاہیں اور اتارے آرائش کے کپڑے اور لباس پرہیز گاری کا وہ سب سے بہتر ہے ط یہ نشانیاں ہیں اللہ کی قدرت کی تاکہ وہ لوگ غور کریں۔

 

ترجمہ سورۃ الاعراف آیت نمبر27

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اے اولاد آدم کی نہ بہکائے تم کو شیطان جیسا کہ اس نے نکال دیا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے اتروائے ان سے ان کے کپڑے تاکہ دکھلائے ان کو شرمگاہیں ان کی ط وہ دیکھتا ہے تم کو اور اس کی قوم جہاں سے تم نہیں دیکھتے ط ہم نے کر دیا شیطانوں کو رفیق ان لوگوں کا جو ایمان نہیں لاتے۔

 

بھائیو اور بہنو 1 انشأ اللہ ! ان سے شرعیت کی رو سے ملاقات کی جائے گی اور جو مضمون اللہ کی نعمتیں سپرد قلم کیا گیا ہے اس کا خلاصہ پیش کیا جائے گا اور گزارش کی جائے گی کہ پورے مضمون کا ویب سائٹ

 

www.cfpibadaahs.co.uk

 

بھائیو اور بہنو ! پر بنام اللہ کی نعمتیں مطالعہ کر لیا جائے اور ان کے شوہر کو بھی ہدایت کی جائے گی کہ وہ بھی اس مضمون کا مطالعہ کریں۔ نیز آپ بہن بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ آپ بھی مضمون اللہ کی نعمتیں کا اپنے اپنے حلقہ احباب میں تعارف کروائیں۔

 

حالات حاضرہ

 

بھائیو اور بہنو ! حالات حاضرہ میں روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ امت مسلمہ کی اکثریت بھی دین اسلام سے بیگانہ ہو چکی ہے۔

 

اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

 

بھائیو اور بہنو ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ دین اسلام سے بیگانہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں، رحمتوں اور برکتوں کا احساس نہیں رہا۔ اللہ کی نعمتوں، رحمتوں اور برکتوں کو

 

Taken for Granted

سمجھا جاتا ہے۔

 

بھائیو اور بہنو ! الحمد للہ ! اس مضمون میں جو نعمتیں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہر مخلوق، خصوصی طور پر انسان پر برس رہی ہیں ان کو ہائی لائٹ کیا گیا ہے۔

 

بھائیو اور بہنو ! مضمون کو محترمہ بھابی صاحبہ کے خطاب کیا گیا ہے۔ دنیا کی ہر عورت دوسرے مرد و عورت کی بہن ہے کیونکہ ہر مرد اور عورت حضرت آدم علیہ السّلام کی اولاد ہے۔ بھابی کا رشتہ بھی بہن کا ہوتا ہے۔ حالات کی نوعیت کی بنا پر مضمون کو محترمہ بھابی صاحبہ کے خطاب کیا گیا ہے۔

 

بھائیو اور بہنو ! محترمہ بھابی صاحبہ سے گزارش کی جائے گی کہ وہ اللہ کی توفیق سے مضمون کا غور وخوض سے مطالعہ کرتی رہیں اور اللہ تعالٰی کی توفیق سے مضمون کو سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر رشتہ داروں، دوست احباب سے تبادلہئ خیالات کرتے ہوئے اللہ کی نعمتوں کا ذکر کریں جن کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور ان کو دعوت دیں کہ وہ بھی خلوص دل سے مضمون اللہ کی نعمتیں کا ویب ساءیٹ

 

www.cfpibadaahs.co.uk

پر مطالعہ کریں۔

 

بھائیو اور بہنو ! یہی پیغام ہر بہن بھائی کو ہے کہ وہ مضمون اللہ کی نعمتیں کا مطالعہ کرتے رہیں۔

 

بھائیو اور بہنو ! منصوبہ امن کی پکار قرآن و حدیث کی بنیاد پر ہے۔ دوسرے الفاظ میں اللہ کا پیغام ہے۔ نفس اور شیطان اللہ کے پیغام کا تعارف، احیأ اور فروغ میں مانع ہوتے ہیں۔ بلا شبہ آپ کو بھی اللہ کا پیغام سمجھنے میں نفس اور شیطان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن حق کو باطل کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔ جب اللہ کا بندہ حق کو سمجھنا چاہتا ہے اور نفس اور شیطان کو نیچا دکھانا چاہتا ہے تو اللہ کی ذات یکتا حق کو سمجھنے والے کے ساتھ ہوتی ہے اور حق کو اللہ تعالٰی کی توفیق سے فتح ہوتی ہے۔

 

ترجمہ سورۃ المائدہ آیت نمبر 67

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اے رسول پہنچا دے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے ط اور اگر ایسا نہ کیا تو تو نے کچھ نہ پہنچایا اس کا پیغام ط اور اللہ تجھ کو بچا لے گا لوگوں سے ط بیشک اللہ راستہ نہیں دکھلاتا قوم کفار کو

 

بھائیو اور بہنو ! یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ نفس اور شیطان اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچانے میں مانع ہوتے ہیں۔ جب انبیائے کرام مبعوث کئے جاتے تھے تو لوگ ان کا عزت و احترام کرتے تھے۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے نبوت کا دعوٰی کیا اور بندوں کو اللہ کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی تو وہ ان کے خلاف ہو جاتے تھے۔ مثلاً جب محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو نبوت سے پہلے ان کو صادق اور امین کا خطاب دیا گیا تھا۔ نبوت کے بعد جب انہوں نے اللہ کا پیغام پہنچانا شروع کیا تو ان کو نعوذ بااللہ ساحر اور دیوانہ کہا گیا۔ اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے گواہی دی کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم ساحر اور دیوانے نہیں ہیں

 

ترجمہ سورۃ القلم آیت نمبر 4 – 1

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

قسم ہے قلم کی اور جو کچھ لکھتے ہیں۔ لا تو نہیں اپنے رب کے فضل سے دیوانہ۔ ج اور تیرے واسطے بدلہ ہے بے انتہا۔ ج اور تو پیدا ہوا ہے بڑے خلق پر۔

 

بھائیو اور بہنو ! مختصر یہ کہ اللہ کی توفیق سے گزشتہ پینتس سال سے بین الاقوامی سطح پر اللہ کا پیغام امن کی تلاش کے پیغامات کے ذریعہ دیا جا رہا ہے لیکن بندوں کے دلوں پر اثر نہیں کرتا۔ تاہم ! اللہ تعالٰی نے انبیائے کرام کی تسلی کے لئے مندرجہ ذیل آیت کا نزول فرمایا

 

ترجمہ سورۃالبقرۃآیت نمبر 272

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

تیرا ذمہ نہیں ان کو راہ پر لانا اور لیکن اللہ راہ پر لاوے جس کو چاہے ط

                                        

بھائیو اور بہنو ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کا پیغام صرف خاتم الانبیأ محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ وسلم کو نہیں ہے بلکہ ان کے ہر امتی پر ہے جو اللہ کا پیغام کسی صورت میں بھی انفرادی یا اجتماعی طور پر پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔

 

بھائیو اور بہنو ! آپ سے گزارش ہے کہ نفس اور شیطان سے مقابلہ کریں اور اللہ تعالٰی کی مدد سے ان کو شکست دیتے رہنے کی کوشش کرتے رہیں۔ توبہ و استغفار کرتے رہیں۔ اللہ تعالٰی رحمان اور رحیم ہیں کہ وہ نہ صرف گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں بلکہ اپنے فضل و کرم سے گناہوں کہ نیکیوں میں تبدیل فرما دیتے ہیں

 

ترجمہ سورۃ الفرقان آیت نمبر 70

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

الا من تاب و اٰمن و عمل عملاً صالحاً فاولٰئک یبدل اللہ سیاٰ تھم حسٰنٰت ط

و کان اللہ غفورًا رحیما۔

 

مگر جس نے توبہ کی اور یقین لایا اور کیا کچھ کام نیک سو ان کو

بدل دے گا اللہ برائیوں کی جگہ بھلایاں اور ہے ط اللہ بخشنے والا مہربان۔

لب لباب

 

بھائیو اور بہنو ! دنیا کی زندگی مختصر ہے اور آخرت کی زندگی ہمیشہ کے لئے ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ ان بندوں میں سے ہو جائیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دی اور اللہ کے قہر کے سزاوار ہوئے

 

ترجمہ سورۃ البقرۃآیت نمبر 86

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے ز

سو نہ ہلکا ہو گا ان پر عذاب اور نہ ان کو مدد پہنچے گی۔

 

ترجمہ سورۃ البقرۃ ٓیت نمبر 176 – 175

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 


یہی ہیں جنہوں نے خریدا گمراہی کو بدلے ہدایت کے اور عذاب بدلے بخشش کے ج سو کس قدر صبر کرنے والے ہیں دوزخ پر۔ یہ اس واسطے کہ اللہ نے نازل فرمائی کتاب سچی ط اور جنہوں نے اختلاف ڈالا کتاب میں وہ بیشک ضد میں دور جا پڑے۔

 

ہاف ایکڑ کئیر ہوم میں قیام مقدر میں لکھا ہوا ہونا

            

بھائیو اور بہنو ! مختصر یہ کہ امن کی تلاش کے پیغامات بین الاقوامی سطح پر پہنچانے کے لئے زندگی، اللہ کے فضل و کرم سے وقف ہو چکی تھی۔ باتھ روم کی چھت بارش کی وجہ سے لیک ہونا شروع ہو گئی اور آہستہ آہستہ پورے مکان میں پانی پہنچتا رہا۔ آمدنی کی امید تھی کہ تصنیف شدہ کتب فروخت ہوں گی تو مکان کی ریفربشمنٹ بھی کروا لی جائے گی اور قرض بھی ادا کر دئیے جائیں گے۔ لیکن کتب فروخت نہیں ہو سکیں۔

 

بھائیو اور بہنو ! گزشتہ سال ستمبر میں دل میں ٹیومر کی دریافت ہوئی۔ مختصر یہ کہ یکم نومبر کو اوپن ہارٹ سرجری ہوئی اور ٹیومر کو نکال دیا گیا۔ کچھ روز کے لئے آپریشن سے پہلے نرس گھر میں انجکشن لگانے کے لئے آتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ میرے دل کا آپریشن ہونے والا ہے۔ اس نرس نے سوشل سروسز کو فون کر کے بتلایا کہ مسٹر عزیز کے دل کا آپریشن ہونے والا ہے اور گھر کا حالت اس قابل نہیں کہ مسٹر عزیز آپریشن کے بعد اس گھر میں اکیلے رہ سکیں۔

 

بھائیو اور بہنو ! مختصر یہ کہ آپریشن کے بعد کچھ عرصہ کے لئے مجھے عارضی رہائش گاہ میں رہنا پڑا۔ چونکہ آپریشن کی وجہ سے کمزوری تھی اور کمر میں بہت درد رہتا تھا اس لئے مجھے ہاف ا یکڑ کئیر ہوم میں شفٹ کر دیا تاکہ گھر کی ریفربشمنٹ کے لئے فائنانس کا انتظام کر سکوں۔

 

حرف آخر

 

بھائیو اور بہنو ! اللہ تعالٰی نے دستور طے کر رکھا ہے کہ ۔ہر کام اکائی سے شروع ہوتا ہے۔ مثلاً

 

بھائیو اور بہنو ! حضرت آدم علیہ السّلام کی تخلیق کی گئی۔ ان کی بائیں طرف دل سے قریب پسلی سے ہی حضرت حوا رضی اللہ تعالٰی عنہا کو پیدا کیا۔ دونوں کا آپس میں نکاح کر دیا اور دستور طے کر دیا کہ دونوں کے ملاپ سے عورت کو حمل ٹہر جائے گا اور ان کی اولادپیدا ہو گی۔ مختصر یہ قیامت تلک جو اولاد پیدا ہوتی رہے گی ان کی نسبت حضرت آدم علیہ السّلام سے ہی کی جائے گی۔

 

بھائیو اور بہنو ! ایک بیج جب کھیت میں بویا جاتا ہے تو اس سے جو پھل پیدا ہوتا ہے تو اس میں کئی بیج ہوتے ہیں جن کو بویا جاتا ہے۔

 

بھائیو اور بہنو ! چودہ سو سال پیشتر جب پوری دنیا میں گمراہی کا دور دورہ تھا تو اللہ تعالٰی نے محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ وسلم کو پوری دنیا میں قیامت تلک کے لئے اللہ کا پیغام بنی نوع انسان تک پہنچانے کے لئے مبعوث کیا۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم اکیلے مسلمان تھے۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم کے دعوت دینے پر ان کی اہلیہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مسلمان ہوئیں۔ آپ صل اللہ علیہ وسلم کے دعوت دینے پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلمان ہوئے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دعوت دینے پر حضرت طلحہ، حضرت عثمان اور کچھ بندے مسلمان ہوئے۔ اس طرح سے مسلمان نسل در نسل پیدا ہوئے اور خلافت راشدہ کے ساڑھے بارہ سال میں پچیس لاکھ مربع میل پر اللہ کے بندے دائرہ اسلام میں داخل ہوتے رہے اور قیامت تک ہوتے رہیں گے۔

 

بھائیو اور بہنو ! مولانا الیاس رحمتہ اللہ علیہ اکیلے تھے جنہوں نے تبلیغی جماعت کی بنیاد میوات میں رکھی تھی۔ حالات حاضرہ میں، کم و بیش، دنیا کے ہر ملک میں تبلیغی جماعت کے مر اکز ہیں۔

 

بھائیو اور بہنو ! امن کی پکار کی بنیاد اس احقر نے نہیں رکھی۔حقیقت میں امن کی پکار اللہ تعالٰی نے رکھوائی ہے۔ احقر تو ایک گمراہ اللہ کا بندہ تھا۔ نماز روزے سے دور تھا۔ انگلینڈ پاکستان سے بی کام آنرز کرنے کے چارٹرڈ اکاؤٹینسی کی تعلیم اس نیت سے حاصل کرنے کے لئے آیا تھا کہ دنیا کی زندگی عیش و آرام سے گزرے گی۔ تاہم ! ایک خیال اللہ کے فضل و کرم سے دل میں جنم لیتا رہتا تھا کہ آخرت کی زندگی میں اللہ کے قہر کا کس طرح برداشت کرنا ہوگا۔

 

بھائیو اور بہنو ! امن کی پکار کی بنیاد کس طرح سے بڑھتی چلی گئی جو اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے رکھوائی تھی اس کو جاننے کے لئے کسی بھی ویب سائٹ پر پروفائل میں مضمون نصیر عزیز کا مطالعہ کریں۔

 

بھائیو اور بہنو ! روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ اگر عقابی نظر سے دیکھا جائے تو گمراہی چودہ سو سال سے بھی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ لیکن اللہ تعالٰی کی مغفرت کا دستور وہی ہے جو اللہ تعالٰی نے اپنے کلام میں ذکر فرمایا ہے

 

ترجمہ سورۃآل عمران آیت نمبر85

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

و من یتبع غیر الاسلام دیناً فلن یقبل منہ ج

و ھو فی الاٰخرۃ من الخٰسرین۔

 

اور جو کوئی چاہے سوا دین اسلام کے اور کوئی دین سو اس سے ہر گز قبول نہیں ہو گا ج

اور وہ آخرت میں خراب ہے۔

 

بھائیو اور بہنو ! علمائے کرام فرماتے ہیں کہ دین اسلام مکمل ہو چکا ہے اور خاتم الانبیأ محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو چکے ہیں اور دنیا سے پردہ فرما چکے ہیں اور دین اسلام کے تعارف، احیأ اور فروغ کا کام اپنے امتیوں کے سپرد اللہ تعالٰی کی ایمأ پر کر گئے ہیں جس کا ذکر قرآن میں ہے

 

ترجمہ سورۃآل عمرانٰ آیت نمبر110

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تا مرون بالمعروف و تنہون عن المنکر و تو منون با للہ ط ولو اٰمن اھل الکتٰب لکان خیراً لہم ط منہم المومنون و اکثر ھم الفاسقون۔

 

تم ہو بہتر سب امتوں سے جو بھیجی گئی عالم میں حکم کرتے ہو اچھے کاموں کا اور منع کرتے ہو برے کاموں سے اور ایمان لاتے ہو اللہ پر ط اور اگر ایمان لاتے اہل کتاب تو ان کے لئے بہتر تھا ط کچھ تو ان میں سے ہیں ایمان پر اور اکثر ان میں نافرمان ہیں۔

 

بھائیو اور بہنو ! ستم ظریفی یہ ہے کہ امت مسلمہ کی اکثریت بھی گمراہی کی راہوں پر رواں دواں ہوتے ہوئے بھی خود کو سیدھے راستے پر سمجھ رہی ہے جبکہ متحدہ امارات میں برائی کے محوروں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ حتٰی کہ سوئر کے گوشت کی دکا نیں بھی ہیں۔ سعودی عرب میں ایک ایسے شہر نیوآ ن کی تعمیر کی جا رہی ہے جہاں پر اسلامی قانون لاگو نہیں ہو گا اور عیش و عشرت کی سہولتیں مہیا کی جائیں گی تاکہ دنیا بھر، خصوصاً مغربی ممالک، سے لوگ چھٹیاں گزارنے کے لئے آ جائیں اور آمدنی کا ذریعہ کھل جائے۔

 

بھائیو اور بہنو ! آپ سے گزارش ہے کہ اللہ کی نعمتوں کے مضمون کا بار بار مطالعہ کرتے رہیں تاکہ اللہ کی عظمت و بڑائی آپ کے دل و دماغ میں سما سکے اور زندگی کا رخ اللہ تعالٰی کی رضا کا حصول ہو جائے۔

 

بھائیو اور بہنو ! آپ سے مزید گزارش ہے کہ آپ بھی امن کی پکار کا جزو بن جائیں اور اپنے رشتہ داروں اور دوست احباب کو اللہ کی نعمتوں کے مضمون کا مطالعہ کرنے کی دعوت دیں اور یہ ای میل ان کو فارورڈ کر دیں تاکہ امن کی پکار منظر عام پر آ جائے۔ جیسا کا ذکر کیا گیا ہے خاتم الانبیأ محمد ابن عبداللہ صل اللہ علیہ و سلم اور مولانا الیاس رحمتہ اللہ علیہ بھی اکیلے تھے۔ لیکن زنجیر میں کڑے ملتے گئے اور آج کروڑوں کی تعداد میں مسلمان ہیں لیکن اکثریت نام کی مسلمان ہے۔ مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی ایک بیان میں فرما رہے تھے کہ کسی مسلمان کے منہ سے ایسا کلمہ دانستہ یا نا دانستہ طور پر نکل جاتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس کے ادا کئے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد بے معنی ہو جاتے ہیں۔ مثلاً کسی نے غیر مسلم کی مغفرت کی دعا کر دی تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔

 

بھائیو اور بہنو ! الحمد للہ ! اللہ تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے امن کی پکار کی بنیاد رکھوائی ہے۔ اللہ تعالٰی نے ہر قدم پر سرپرستی کی ہے اور سرپرستی فرما رہے ہیں۔ انشأ اللہ وہ وقت آئے گا کہ دینا کے کونے کونے سے امن کی پکار کی آواز آئے گی۔ خواہ ایک سال، دس سال، بچاس سال یا سو سال بعد امن کی پکار کی آواز آئے۔ کوشش انسان کی اللہ کی توفیق سے ہوتی ہے اور نتائج اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے نکلتے ہیں۔

                        

ترجمہ سورۃالبقرۃآیت نمبر 272

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

تیرا ذمہ نہیں ان کو راہ پر لانا اور لیکن

اللہ راہ پر لاوے جس کو چاہے ط

 

بھائیو اور بہنو ! آپ سے گزارش ہے کہ کوشش کریں اور اللہ تعالٰی کی مدد حاصل کریں۔ انشأ اللہ دنیا اور آخرت میں کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

 

والسّلام

 

نصیر عزیز

 

پرنسپل امن کی پکار

 


 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll Up